بھارت بھر میں مانسون کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور شمالی و مغربی ریاستوں میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ بارش سے شدید گرمی میں کمی آئی ہے، لیکن کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے، سڑکیں دھنسنے اور دیگر حادثات کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
محکمہ موسمیات نے اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر اور ہماچل پردیش سمیت کئی ریاستوں میں شدید بارش کا الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔
اتر پردیش میں فی الحال مانسون کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے۔ لکھنؤ سمیت 50 سے زائد اضلاع میں آئندہ تین دن ہلکی بارش اور حبس رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تاہم 6 جولائی سے مانسون دوبارہ فعال ہونے اور 7 سے 8 جولائی کے دوران اچھی بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کانپور میں جمعہ کو 99.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے کئی علاقوں میں پانی بھر گیا اور سڑکیں دھنس گئیں۔
راجستھان میں تقریباً ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد مانسون نے زور پکڑا ہے۔ بھیلواڑہ، بانسواڑہ اور چتور گڑھ سمیت 22 اضلاع میں موسلا دھار بارش ہوئی۔ جے پور کے سوائی مان سنگھ اسپتال کے ٹراما سینٹر اور آپریشن تھیٹر میں پانی داخل ہونے کے باعث مریضوں کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔ ڈونگرپور میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔
ممبئی میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ صرف پانچ گھنٹوں میں 70 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے شدید سے انتہائی شدید بارش اور 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی ہے۔
ہماچل پردیش میں بارش سے متعلق مختلف حادثات میں تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
مرکزی حکومت نے موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی بات کہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایل نینو کے اثرات کے باعث غیر مساوی بارش اور ممکنہ خشک سالی کے خدشات پر متعلقہ وزارتوں کو مکمل طور پر چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔
محکمہ موسمیات نے دہلی اور این سی آر میں بھی بارش کی پیش گوئی کی ہے اور شہریوں سے سرکاری موسمی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔




.webp)

.jpg)
.jpg)



