جے پور:راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ کر دھنی تھانہ علاقے کے گووندپورہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کے قتل کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنے ہی گھر میں اپنی بیوی اور تین بیٹیوں پر حملہ کیا۔ پولیس نے ملزم کی شناخت راہل جھا کے طور پر کی ہے، جو مبینہ واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نے گھر میں موجود اینٹوں اور تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے پتھر کے ٹکڑوں سے مبینہ طور پر حملہ کیا۔ شدید چوٹوں کے نتیجے میں چاروں افراد کی موت ہوگئی۔
ایک ہی گھر سے چار لاشیں ملنے کی اطلاع کے بعد علاقے میں خوف کی کیفیت پیدا ہوگئی اور پولیس کی بڑی نفری موقع پر پہنچ گئی۔
ہلاک ہونے والوں میں بیوی اور تین بیٹیاں شامل
پولیس کے مطابق اس واقعے میں ملزم کی بیوی اور اس کی تین بیٹیوں کی موت ہوئی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ تینوں بیٹیوں کی عمریں تقریباً 17 سے 23 سال کے درمیان تھیں۔ ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد پڑوسی اور مقامی لوگ بھی شدید صدمے میں ہیں۔
پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ واقعے سے قبل گھر کے اندر کیا حالات تھے اور خاندان کے افراد کے درمیان کسی قسم کا تنازع یا اختلاف چل رہا تھا یا نہیں۔
ینٹوں اور تعمیراتی سامان سے حملے کا الزام
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر گھر میں موجود اینٹوں اور تعمیراتی سامان کے ٹکڑوں کو حملے کے لیے استعمال کیا۔
تفتیش کار جائے وقوعہ سے ملنے والے سامان اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل ترتیب معلوم کی جاسکے۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو محفوظ کرلیا ہے تاکہ فرانزک ماہرین وہاں موجود سائنسی اور جسمانی شواہد کو احتیاط سے جمع کرسکیں۔
واردات کے بعد ملزم فرار
مبینہ قتل کے بعد راہل جھا کے موقع سے فرار ہونے کی اطلاع ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کر دھنی تھانے کی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور گھر کو اپنے قبضے میں لے کر تفتیش شروع کردی۔
ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی متعدد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں اس کے ممکنہ ٹھکانوں پر تلاش کررہی ہیں اور اس کے رابطوں اور واقعے کے بعد کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات جمع کررہی ہیں۔
فرانزک ٹیم نے شواہد جمع کیے
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فارنسک سائنس لیبارٹری کی ٹیم کو بھی جائے وقوعہ پر بلایا گیا۔
فرانزک ماہرین نے موقع سے فنگر پرنٹس اور دیگر سائنسی شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کیا۔ تفتیش میں جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کو انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔
ان شواہد کی مدد سے پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ واقعے کے وقت گھر میں کون موجود تھا اور مبینہ حملہ کس ترتیب سے ہوا۔
خاندانی تنازع کو ممکنہ وجہ سمجھا جارہا ہے
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں خاندانی تنازع یا گھریلو اختلاف کو ممکنہ وجہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
تاہم، پولیس نے ابھی اس بات کو حتمی وجہ قرار نہیں دیا ہے۔ تفتیش کار خاندان کے اندر تعلقات، ماضی کے اختلافات اور واقعے سے پہلے ممکنہ جھگڑے کے بارے میں معلومات جمع کررہے ہیں۔
پولیس یہ بھی جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ کیا خاندان کے اندر پہلے سے کوئی تنازع چل رہا تھا یا واقعہ اچانک کسی بحث کے بعد پیش آیا۔
ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل
مغربی ضلع کے پولیس حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے کئی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
یہ ٹیمیں ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں اور ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کی کوشش کررہی ہیں۔
تفتیش میں سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون کی معلومات اور دیگر تکنیکی ذرائع کی مدد بھی لی جاسکتی ہے تاکہ ملزم کے واقعے کے بعد کے راستے اور ممکنہ ٹھکانے کا پتہ لگایا جاسکے۔
پولیس مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے
پولیس اس معاملے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کررہی ہے۔ خاندانی تنازع، واقعے سے پہلے کے حالات، مبینہ حملے کی ترتیب اور واقعے کے بعد ملزم کے فرار ہونے سمیت کئی پہلوؤں کی جانچ کی جارہی ہے۔
پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ واقعے کے وقت گھر میں صرف خاندان کے افراد موجود تھے یا کوئی اور شخص بھی وہاں موجود تھا۔
ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت کے اس واقعے نے پورے علاقے کو صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری اور فرانزک تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی مکمل وجہ اور اس کے پس پردہ حالات واضح ہوسکیں گے۔






.jpg)
.jpg)




.webp)


