نیپال اس وقت شدید سیلاب اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ مختلف علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ اسی دوران لوٹ مار کے مبینہ واقعات نے انتظامیہ کے لیے ایک نئی مشکل پیدا کردی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق سیلابی پانی کے تیز بہاؤ میں ایک تجوری بہہ کر آئی، جسے بعد میں مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ الزام ہے کہ تجوری میں موجود تقریباً 92 لاکھ روپے نکال لیے گئے۔ پولیس نے اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے 31 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیپال میں بڑی تعداد میں لوگ سیلاب سے متاثر ہیں اور کئی خاندان اپنے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
سیلاب میں بہہ کر آنے والی تجوری سے رقم چوری
شدید سیلاب کے دوران کئی گھروں اور دیگر مقامات کا سامان پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔ اسی دوران ایک تجوری بھی سیلابی پانی کے ساتھ بہہ کر ایک علاقے تک پہنچ گئی۔
الزام ہے کہ تجوری ملنے کے بعد اسے کھولا گیا اور اس میں موجود رقم نکال لی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ چوری ہونے والی رقم تقریباً 92 لاکھ روپے تھی۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ تفتیش کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ تجوری کہاں سے بہہ کر آئی تھی، اس میں کتنی رقم موجود تھی اور رقم نکالنے میں کون لوگ ملوث تھے۔
تحقیقات کے بعد پولیس نے 31 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
متوفی خاتون کے زیورات نکالنے کا بھی الزام
قدرتی آفت کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ سیلاب میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون کی لاش سے بھی زیورات نکالے گئے۔
رپورٹ کے مطابق خاتون کے کانوں سے بالیاں نکالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں اور امدادی ادارے متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔
متوفی کے جسم سے زیورات نکالنے کے الزام نے انسانی ہمدردی اور آفت کے دوران متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
سیلاب کے دوران امن و امان کا چیلنج
نیپال کے کئی علاقوں میں سیلاب کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سڑکوں اور رابطہ ذرائع کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ کئی علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی بھی مشکل ہے۔
ایسے حالات میں انتظامیہ کے سامنے دوہری ذمہ داری ہے۔ ایک طرف متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور امداد فراہم کرنا ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب متاثرہ علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔
قدرتی آفت کے دوران معمول کی نگرانی اور سکیورٹی نظام متاثر ہونے سے جرائم پیشہ عناصر کو فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ پولیس اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
31 افراد کی گرفتاری کے بعد تحقیقات جاری
تجوری سے رقم چوری کرنے اور متوفی خاتون کے زیورات نکالنے کے الزامات کے بعد پولیس نے تحقیقات کو تیز کردیا ہے۔
31 افراد کی گرفتاری کے بعد اب یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ گرفتار افراد کا ایک دوسرے سے کیا تعلق تھا اور کیا ان واقعات میں ایک سے زیادہ افراد نے مل کر کردار ادا کیا۔
پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ سیلاب کے دوران بہہ کر آنے والی دیگر قیمتی اشیا کے حوالے سے بھی کہیں چوری یا لوٹ مار کے واقعات تو پیش نہیں آئے۔
امدادی کارروائیوں کے ساتھ سکیورٹی بھی اہم
اس وقت نیپال میں سب سے بڑی ترجیح سیلاب متاثرین کو امداد فراہم کرنا، لاپتہ افراد کی تلاش اور لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنا ہے۔
ایسے میں لوٹ مار کے واقعات متاثرہ خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھا سکتے ہیں۔ انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی کو بھی مضبوط بنایا جائے۔
تقریباً 92 لاکھ روپے والی تجوری سے رقم چوری کرنے اور متوفی خاتون کی بالیاں نکالنے کے الزامات میں 31 افراد کی گرفتاری اسی کارروائی کا حصہ ہے۔ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ معاملے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


