تازہ خبریں طرز زندگی
تیجسوی یادو حراست میں، پٹنہ میں آر جے ڈی کے راج بھون مارچ پر ہنگامہ


پٹنہ۔ بہار میں طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق مسائل اور امتحانی نظام کو لے کر جاری سیاسی تنازع کے درمیان راشٹریہ جنتا دل نے بدھ کے روز پٹنہ میں راج بھون مارچ نکالا۔ مارچ کی قیادت بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے کی۔

مارچ میں آر جے ڈی کے سینئر رہنماؤں، ارکان اسمبلی، پارٹی عہدیداروں اور بڑی تعداد میں کارکنوں کے شریک ہونے کی اطلاع ہے۔

راج بھون مارچ گاندھی میدان کے قریب جے پی گولمبر سے شروع ہوا۔ مارچ کو دیکھتے ہوئے پٹنہ انتظامیہ نے شہر کے اہم مقامات پر اضافی سکیورٹی فورس تعینات کی تھی۔

گاندھی میدان، جے پی گولمبر، ڈاک بنگلہ چوراہا اور راج بھون کی جانب جانے والے اہم راستوں پر پولیس کی تعیناتی کی گئی تھی۔

 پولیس نے تیجسوی یادو کو حراست میں لیا

راج بھون کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر روکنے کی کوشش کی۔ جب مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

پولیس نے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس کے بعد پولیس نے تیجسوی یادو کو حراست میں لے لیا۔

انہیں بیریکیڈ کے دوسری جانب لے جایا گیا اور بعد میں ایک گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ ان کے ساتھ موجود آر جے ڈی کارکنوں کو بھی آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔

 بی جے پی دفتر کے باہر نعرے بازی

تیجسوی یادو اور دیگر آر جے ڈی کارکنوں کو جس بس میں لے جایا جا رہا تھا، وہ بی جے پی دفتر کے قریب سے گزری۔

اس دوران آر جے ڈی کارکنوں نے بی جے پی دفتر کے باہر نعرے بازی کی۔ پولیس نے موقع پر موجود کارکنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔

 تیجسوی یادو کا حکومت پر حملہ

واٹر کینن کے استعمال پر تیجسوی یادو نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین کے خلاف کارروائی حکومت کی ہدایت پر کی گئی۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی سے احتجاج کمزور نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق طلبہ اور نوجوان اپنے حقوق اور مستقبل سے متعلق مسائل پر سڑکوں پر آواز اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق سوالات کا جواب دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

 آر جے ڈی رکن اسمبلی کے پولیس کارروائی پر الزامات

آر جے ڈی رکن اسمبلی بھائی وریندر نے بھی پولیس کارروائی پر تنقید کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوان غیر مسلح تھے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ انہوں نے مظاہرین پر طاقت کے استعمال کے الزامات لگائے اور کارروائی کے جواز پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے سابقہ احتجاجی واقعات کے دوران فائرنگ سے متعلق بھی الزامات عائد کیے۔

ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کا سرکاری موقف اس معاملے میں اہم ہوگا۔

 بی جے پی نے مارچ کو سیاسی احتجاج قرار دیا

بی جے پی کی جانب سے آر جے ڈی کے مارچ پر تنقید کی گئی۔ بی جے پی رہنما مرتیونجے تیواری نے الزام لگایا کہ یہ مارچ طلبہ کے مسائل سے زیادہ پارٹی اور اپوزیشن لیڈر کی سیاسی پوزیشن سے متعلق ہے۔

انہوں نے ریاستی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طلبہ اور نوجوانوں کے لیے کام کر رہی ہے اور تعلیم و امتحانی نظام میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔

 جے ڈی یو نے بھی تیجسوی یادو کو نشانہ بنایا

جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے بھی تیجسوی یادو کے مارچ پر ردعمل ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت کرنا جمہوری حق ہے، لیکن قومی پرچم کے وقار کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

احتجاج کے دوران آر جے ڈی کارکنوں کے ہاتھوں میں قومی پرچم بھی نظر آئے، جس پر جے ڈی یو کی جانب سے سوال اٹھائے گئے۔

لالو پرساد یادو نے کارکنوں سے اپیل کی تھی

راج بھون مارچ سے پہلے آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو نے نوجوانوں اور پارٹی کارکنوں سے بڑی تعداد میں مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔

پارٹی قیادت نے طلبہ اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مسائل کو احتجاج کی اہم وجہ قرار دیا اور جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنے کی اپیل کی۔

انتظامیہ نے سکیورٹی سخت کی

مارچ سے قبل پٹنہ انتظامیہ نے شہر میں سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔

گاندھی میدان، جے پی گولمبر، ڈاک بنگلہ چوراہا اور راج بھون جانے والے اہم راستوں پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی۔

اعلیٰ انتظامی اور پولیس افسران نے مختلف مقامات کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور اہلکاروں کو ضروری ہدایات دیں۔

انتظامیہ کی بنیادی ترجیح احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور مظاہرین کو حساس علاقوں کی جانب بڑھنے سے روکنا تھی۔

حکومت نے احتجاج کو جمہوری حق قرار دیا

ریاستی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔

حکومت نے یہ بھی کہا کہ وہ طلبہ کے مطالبات کے حوالے سے حساس ہے اور تعلیم و امتحانی نظام میں بہتری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

 مارچ کی سیاسی اہمیت

تیجسوی یادو کی قیادت میں ہونے والا راج بھون مارچ طلبہ اور امتحانی مسائل سے آگے بڑھ کر بہار کی سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑی سیاسی کشمکش بن گیا۔

آر جے ڈی نے اسے طلبہ اور نوجوانوں کی آواز قرار دیا، جبکہ بی جے پی اور جے ڈی یو کے رہنماؤں نے اسے سیاسی احتجاج قرار دیا۔

تیجسوی یادو کی حراست اور واٹر کینن کے استعمال کے بعد معاملہ مزید سیاسی طور پر نمایاں ہوگیا ہے۔

اب انتظامیہ کی اگلی کارروائی، احتجاج کے حوالے سے سرکاری رپورٹ اور آر جے ڈی کی آئندہ حکمت عملی اس معاملے کی سمت طے کرے گی۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·