رامپور۔ رامپور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی میں بدھ کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائی کے دوران اس وقت تنازع پیدا ہوگیا جب یونیورسٹی میں داخل ہونے والے طلبہ کے نام اور موبائل نمبر درج کیے جانے لگے۔
دستیاب معلومات کے مطابق ای ڈی کے ساتھ موجود سکیورٹی اہلکار یونیورسٹی میں داخل ہونے سے قبل طلبہ و طالبات کی تفصیلات درج کر رہے تھے۔ اس کارروائی کی اطلاع ملنے کے بعد وکیل ستنام سنگھ مٹو موقع پر پہنچے اور طلبہ کے موبائل نمبرز درج کیے جانے پر اعتراض کیا۔
وکیل نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔ موقع پر موجود ای ڈی حکام نے مبینہ طور پر انہیں بتایا کہ طلبہ کی تفصیلات درج کرنا جاری کارروائی اور سکیورٹی انتظامات کا حصہ ہے۔ اس معاملے پر وکیل اور حکام کے درمیان بحث بھی ہوئی۔
تفصیلات درج کرانے کے بعد طلبہ کو داخلہ
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی میں داخل ہونے والے طلبہ کو اپنا نام اور موبائل نمبر درج کرانے کے بعد ہی داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی تھی۔
اس عمل کے بعد طلبہ کے درمیان بھی اس بات کو لے کر سوالات اٹھے کہ ان کی ذاتی معلومات کیوں حاصل کی جا رہی ہیں اور ان معلومات کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
دستیاب معلومات کے مطابق تفتیشی ایجنسی کو خدشہ تھا کہ طلبہ کی آڑ میں ایسے افراد یونیورسٹی میں داخل ہو سکتے ہیں جو کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
اسی وجہ سے یونیورسٹی میں داخل ہونے والے افراد کی اضافی جانچ اور تفصیلات درج کرنے کا انتظام کیا گیا بتایا جا رہا ہے۔
تاہم وکیل ستنام سنگھ مٹو نے طلبہ کے ذاتی موبائل نمبرز لیے جانے پر قانونی اعتراض اٹھایا۔ اس معاملے میں یہ واضح ہونا باقی ہے کہ یہ معلومات کس قانونی اختیار کے تحت حاصل کی گئیں اور انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کئی مقامات پر ایک ساتھ چھاپہ ماری
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بدھ کی صبح تقریباً 7 بجے جوہر یونیورسٹی سمیت رامپور میں کئی مقامات پر بیک وقت کارروائی شروع کی۔
دستیاب معلومات کے مطابق کارروائی میں لکھنؤ اور دہلی سے آنے والے افسران کی ٹیمیں شامل تھیں۔
جن مقامات پر کارروائی کی اطلاع سامنے آئی ہے ان میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی اور مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ سے متعلق مقامات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سی کے ایسوسی ایٹس کے ڈائریکٹر پون کمار جین کی گنگاپور آواس وکاس کالونی میں واقع رہائش گاہ اور پیپل ٹولہ کے علاقے میں واقع کمپنی کے دفتر پر بھی تلاشی کی اطلاع ہے۔
سول لائنز علاقے میں شوقت روڈ پر واقع ایک کاروباری ادارے اور گنج تھانہ علاقے میں جیل روڈ پر واقع شاہین خان کے گھر کو بھی کارروائی کے دائرے میں شامل بتایا گیا ہے۔
یونیورسٹی کی تعمیر اور مالی معاملات کی جانچ
دستیاب معلومات کے مطابق تفتیشی کارروائی میں یونیورسٹی اور اس سے منسلک اداروں کے مالی معاملات اور تعمیراتی کاموں سے متعلق ریکارڈ بھی اہم ہو سکتے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ سابقہ ریاستی حکومت کے دور میں سی کے ایسوسی ایٹس اور دیگر فرموں نے یونیورسٹی کی عمارتوں کی تعمیر میں کام کیا تھا۔ اسی وجہ سے ان کمپنیوں اور ان سے وابستہ افراد کے مقامات پر بھی کارروائی کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
تاہم چھاپہ ماری کے دوران ایجنسی کو کون سے دستاویزات یا دیگر مواد حاصل ہوئے، اس بارے میں مکمل سرکاری تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ ایجنسی کو کون سی اہم معلومات ملی ہیں اور معاملے میں مزید کیا کارروائی کی جا سکتی ہے۔
رکن اسمبلی آکاش سکسینہ کا ردعمل
جوہر یونیورسٹی اور اس سے وابستہ افراد کے مقامات پر ای ڈی کی کارروائی پر رکن اسمبلی آکاش سکسینہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی پہلے ہی ہو جانی چاہیے تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جوہر یونیورسٹی کی تعمیر میں سرکاری رقم کے علاوہ مبینہ طور پر غیر قانونی یا غیر ظاہر شدہ رقم کا بھی استعمال کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں انہوں نے پہلے ہی تفتیشی ایجنسی سے شکایت کی تھی۔
آکاش سکسینہ نے مزید دعویٰ کیا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد اہم اور چونکا دینے والے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
تاہم یہ الزامات فی الحال دعووں کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی تصدیق تفتیش، سرکاری دستاویزات اور قانونی کارروائی کے نتائج سے ہی ہوگی۔
کارروائی کے دوران سکیورٹی سخت
چھاپہ ماری کے دوران یونیورسٹی کے اطراف سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے۔ یونیورسٹی میں داخل ہونے والے افراد کی آمد و رفت پر نظر رکھی گئی اور طلبہ سے بھی شناختی تفصیلات درج کرانے کو کہا گیا۔
بڑی تفتیشی کارروائیوں کے دوران عام طور پر متعلقہ ادارے میں لوگوں کی آمد و رفت محدود کی جاتی ہے تاکہ کارروائی میں رکاوٹ نہ آئے اور اہم دستاویزات یا دیگر مواد محفوظ رہیں۔
اسی پس منظر میں طلبہ کے داخلے سے قبل ان کی تفصیلات درج کرنے کی کارروائی سامنے آئی ہے، تاہم موبائل نمبرز جمع کیے جانے کے قانونی جواز اور ان معلومات کے استعمال سے متعلق سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
طلبہ کے موبائل نمبرز پر تنازع
پورے معاملے میں سب سے زیادہ توجہ طلبہ کے موبائل نمبرز درج کیے جانے پر مرکوز ہے۔
ایک طرف ای ڈی حکام نے مبینہ طور پر اسے کارروائی اور سکیورٹی کا حصہ قرار دیا، جبکہ وکیل ستنام سنگھ مٹو نے طلبہ کی ذاتی معلومات حاصل کیے جانے پر اعتراض کیا۔
اس معاملے میں یہ سوال اہم ہے کہ معلومات کس قانونی اختیار کے تحت جمع کی گئیں، ان کا مقصد کیا ہے، انہیں کتنے عرصے تک محفوظ رکھا جائے گا اور ان تک کس کو رسائی حاصل ہوگی۔
فی الحال جوہر یونیورسٹی اور اس سے وابستہ مقامات پر ای ڈی کی کارروائی ایک اہم تفتیشی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم کارروائی کے حتمی نتائج اور مزید قانونی اقدامات کا انحصار تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد اور سرکاری جانچ کے نتائج پر ہوگا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


