تازہ خبریں طرز زندگی
شوریہ چکر حاصل کرنے والے موہن سنگھ کی بیوہ کو 26 سال بعد انصاف، سپریم کورٹ کی مداخلت سے خصوصی خاندانی پنشن کا راستہ صاف


نئی دہلی۔ ملک کی خدمت کے دوران جان گنوانے والے شوریہ چکر حاصل کرنے والے موہن سنگھ کی بیوہ کو آخرکار 26 سال کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد بڑی راحت ملی ہے۔ خصوصی خاندانی پنشن کے حق کے لیے کئی برس تک جاری رہنے والی قانونی جنگ میں سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اب ان کی پنشن اور بقایا رقم کی ادائیگی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

موہن سنگھ جنرل ریزرو انجینئرنگ فورس میں اوورسیئر کے عہدے پر تعینات تھے۔ وہ سرحدی علاقے میں ایک اہم سڑک کی تعمیر کے منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے۔ 10 جولائی 2000 کو ڈیوٹی کے دوران ایک حادثے میں ان کی موت ہو گئی۔

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق پہاڑی کی چوٹی سے ملبے کے ساتھ ایک بڑا پتھر اچانک نیچے کی طرف آیا۔ اس وقت وہاں کئی مزدور کام کر رہے تھے۔ موہن سنگھ نے فوری طور پر مزدوروں کو خطرے سے دور کرنے کی کوشش کی۔

مزدوروں کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کے دوران وہ خود حادثے کی زد میں آ گئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ان کی بہادری اور ملک کے لیے خدمات کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے 2001 میں انہیں بعد از مرگ شوریہ چکر سے نوازا۔

تاہم ان کی موت کے بعد ان کی بیوہ کو اپنے پنشن کے حقوق کے لیے ایک طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی۔

خصوصی خاندانی پنشن کا تنازع

موہن سنگھ کی بیوہ کو ورک مین کمپنسیشن ایکٹ کے تحت معاوضہ دیا گیا تھا۔ تاہم ان کا مؤقف تھا کہ وہ سی سی ایس ایکسٹرا آرڈینری پنشن قوانین کے تحت خصوصی خاندانی پنشن کی بھی حقدار ہیں۔

ان کے دعوے کو ابتدائی طور پر اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ ورک مین کمپنسیشن ایکٹ کے تحت معاوضہ پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے۔

حکام کا موقف تھا کہ چونکہ معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے، اس لیے خاندان کو متعلقہ پنشن قوانین کے تحت لبرلائزڈ پنشنری ایوارڈ کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔

موہن سنگھ کی بیوہ نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

ہائی کورٹ نے تسلیم کیا کہ وہ ایکسٹرا آرڈینری پنشن کی حقدار ہیں۔ تاہم عدالت نے بقایا رقم کی ادائیگی درخواست دائر کرنے کی تاریخ سے کرنے کا حکم دیا، نہ کہ موہن سنگھ کی وفات کی تاریخ سے۔

اس کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کی غلطی تسلیم کی

اس معاملے کی سماعت جسٹس کے وی وشوناتھَن اور جسٹس اروند کمار کی بینچ نے کی۔

سپریم کورٹ نے معاملے کے حقائق اور پنشن کے متعلقہ قوانین کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے معاملے کو درست طریقے سے نہیں دیکھا گیا۔

عدالت کے مطابق موہن سنگھ کے معاملے کو سی سی ایس پنشن قوانین کے تحت درست زمرے میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ اگر ایسا کیا جاتا تو ان کی بیوہ کو شوہر کی موت کے بعد ہی خصوصی پنشن کا فائدہ مل سکتا تھا۔

سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی خدمت کے دوران جان گنوانے والے ملازمین کے خاندانوں کو اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کے لیے طویل عرصے تک عدالتوں کے چکر نہیں لگانے چاہئیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی بیوہ یا خاندان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے قانونی پنشن فوائد حاصل کرنے کے لیے برسوں تک مقدمہ لڑتا رہے۔

بقایا رقم کی ادائیگی

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آر. وینکٹ رمنی نے عدالت کو بتایا کہ بیوہ کو 14.28 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق پنشن کی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

اس کے علاوہ 4.12 لاکھ روپے کی بقایا رقم بھی جاری کیے جانے کی اطلاع عدالت کے سامنے رکھی گئی۔

سپریم کورٹ نے مزید ہدایت دی کہ موہن سنگھ کی موت اور ہائی کورٹ کے حکم کے درمیان کی مدت کے لیے ان کی بیوہ کو مجموعی طور پر 10 لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔

26 سال کی قانونی جدوجہد

اس معاملے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ موہن سنگھ کی بیوہ کو خصوصی خاندانی پنشن کا حق حاصل کرنے کے لیے تقریباً 26 سال تک قانونی جدوجہد کرنا پڑی۔

یہ معاملہ صرف ایک خاندان کی پنشن سے متعلق نہیں بلکہ ان خاندانوں کے ساتھ سرکاری نظام کی ذمہ داری کا بھی اہم سوال اٹھاتا ہے جن کے افراد ملک یا سرکاری خدمت کے دوران اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔

موہن سنگھ نے حادثے کے وقت اپنی جان کی پروا کیے بغیر وہاں موجود مزدوروں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش کے دوران ان کی جان چلی گئی۔ بعد میں ان کی بہادری اور قربانی کو شوریہ چکر سے تسلیم کیا گیا۔

سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اب ان کی بیوہ کے لیے وہ مالی فوائد حاصل کرنے کا راستہ صاف ہوا ہے جن کے لیے انہوں نے کئی دہائیوں تک جدوجہد کی۔

سپریم کورٹ کے مشاہدات کی اہمیت

سپریم کورٹ کی یہ کارروائی سرکاری محکموں کی ذمہ داری کو بھی واضح کرتی ہے۔ جب کسی سرکاری ملازم کی ڈیوٹی کے دوران موت ہو اور متعلقہ قوانین کے تحت اس کے خاندان کو خصوصی پنشن کا حق حاصل ہو تو متعلقہ حکام کو قواعد کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔

کسی خاندان کو اپنے قانونی حقوق حاصل کرنے کے لیے برسوں تک عدالتی کارروائی میں الجھانا مناسب نہیں۔

یہ معاملہ ان تمام خاندانوں کے لیے بھی اہم مثال بن سکتا ہے جو سرکاری ملازمین کی دورانِ خدمت موت کے بعد پنشن اور دیگر مالی فوائد کے لیے سرکاری نظام سے رجوع کرتے ہیں۔

موہن سنگھ کی بیوہ کی 26 سالہ قانونی جدوجہد اب سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ایک اہم مرحلے پر پہنچی ہے۔ عدالت نے پنشن کے معاملے میں ہوئی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ مدت کے لیے اضافی مالی راحت فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·