تازہ خبریں طرز زندگی
بخیرا جھیل سے 20 کلومیٹر دور قدیم بدھ اسٹوپا توجہ کا منتظر


سنت کبیر نگر ضلع کی شمالی سرحد پر واقع دھرم سنگھوا قصبے کا قدیم بدھ اسٹوپا آج بھی علاقے کے تاریخی ماضی اور بدھ مت کی روایت کی یاد دلاتا ہے۔ تاریخی اہمیت رکھنے کے باوجود مناسب تشہیر، بنیادی سہولیات اور سیاحتی انتظامات کی کمی کے باعث یہ مقام ابھی تک وسیع پیمانے پر سیاحوں کی توجہ حاصل نہیں کر سکا ہے۔

مقامی روایات کے مطابق بدھ بھکشوؤں نے دھرم سنگھوا میں بدھ مت کی تعلیمات کو عام کرنے کے مقصد سے اس اسٹوپا کی تعمیر کرائی تھی۔ مقامی بزرگوں کے مطابق ماضی میں یہاں بدھ بھکشوؤں اور مذہبی مبلغین کی آمدورفت رہتی تھی۔ اسٹوپا کے قریب موجود وسیع تالاب بھی اس تاریخی مقام کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق بھکشو تالاب میں غسل کرنے کے بعد اسٹوپا کے احاطے میں جمع ہوتے تھے۔ یہاں مذہبی گفتگو، مشاورت اور بدھ مت سے متعلق مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جاتا تھا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہاں سے بدھ مت کے مبلغین مختلف علاقوں میں جاتے اور اپنی تعلیمات کو عام کرتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اسٹوپا کی حالت خراب ہوتی گئی۔ تقریباً چار سال قبل تیز آندھی اور بارش کے دوران یہ قدیم اسٹوپا منہدم ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اس کے تحفظ اور دوبارہ تعمیر کی ضرورت محسوس کی گئی۔

سابق رکن اسمبلی راکیش سنگھ باگھیل کی پہل پر وزیر اعلیٰ سیاحتی فروغ اسکیم کے تحت تقریباً 50 لاکھ روپے کی لاگت سے اسٹوپا کی دوبارہ تعمیر کرائی گئی۔ اس کے گرد چار دیواری تعمیر کی گئی اور مرکزی دروازہ بھی لگایا گیا تاکہ تاریخی مقام کو محفوظ رکھا جا سکے۔

اگرچہ تعمیر نو کے بعد اسٹوپا محفوظ ہو گیا ہے، لیکن اسے مکمل سیاحتی مقام بنانے کے لیے ابھی کئی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسٹوپا کے قریب موجود وسیع تالاب کی حالت تشویش کا باعث ہے۔ تجاوزات، آبی گھاس اور گندگی کی وجہ سے تالاب کا رقبہ مسلسل سکڑ رہا ہے اور پورے علاقے کی خوبصورتی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

سیاحوں کے لیے بنیادی سہولیات کی بھی کمی ہے۔ بیٹھنے کے لیے مناسب بینچ، روشنی کا انتظام، تاریخی معلومات فراہم کرنے والے بورڈ، بیت الخلا اور دیگر ضروری سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ان انتظامات کی کمی کی وجہ سے باہر سے آنے والے سیاحوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے یہاں زیادہ وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس مقام کی سب سے بڑی خصوصیات میں سے ایک اس کا محل وقوع ہے۔ عالمی سطح پر معروف رامسر سائٹ بخیرا جھیل یہاں سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اگر بخیرا جھیل اور دھرم سنگھوا اسٹوپا کو ایک مشترکہ سیاحتی منصوبے کے تحت جوڑ دیا جائے تو ایک اہم سیاحتی سرکٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔

بخیرا جھیل آنے والے سیاحوں کو دھرم سنگھوا کے قدیم اسٹوپا تک بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ اس سے علاقے میں سیاحوں کے قیام کا وقت بڑھ سکتا ہے اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

بدھ سیاحت کے حوالے سے بھی اس مقام میں بڑی صلاحیت موجود ہے۔ بہتر سڑک رابطے، رہائش، مقامی ٹرانسپورٹ، تربیت یافتہ گائیڈز اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں تو بھارت کے مختلف علاقوں کے علاوہ نیپال، چین اور سری لنکا جیسے ممالک سے بھی بدھ مت کے پیروکار یہاں آ سکتے ہیں۔

سیاحت کے فروغ سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے کئی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ نوجوان ٹورسٹ گائیڈ، ڈرائیور اور ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے والے کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی دکانیں، کھانے پینے کے مراکز، مقامی مصنوعات کی فروخت اور ہوم اسٹے جیسی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

مقامی لوگوں اور ماہرین کے مطابق صرف اسٹوپا کی دوبارہ تعمیر کافی نہیں ہے، بلکہ پورے علاقے کی منصوبہ بند ترقی ضروری ہے۔ تالاب کی صفائی، تجاوزات کا خاتمہ، علاقے کی خوبصورتی، روشنی کا انتظام، بیٹھنے کی جگہ، بیت الخلا، پینے کا پانی، پارکنگ اور تاریخی معلومات فراہم کرنے والے بورڈ نصب کیے جائیں تو یہ مقام زیادہ پرکشش سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔

دھرم سنگھوا کے قدیم بدھ اسٹوپا کی ترقی سے ایک طرف تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف سنت کبیر نگر کے سیاحتی امکانات کو بھی نئی سمت مل سکتی ہے۔ اگر بخیرا جھیل اور دھرم سنگھوا اسٹوپا کو ایک سیاحتی سرکٹ کے طور پر فروغ دیا جائے تو علاقے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت ملنے کے ساتھ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·