گریٹر نوئیڈا ویسٹ کی نرالا گرین آرک سوسائٹی میں آلودہ گنگا جل کی سپلائی کے باعث 100 سے زائد افراد کے بیمار ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ متاثرہ افراد میں تقریباً 70 بچے بھی شامل بتائے جا رہے ہیں، جس کے بعد پوری سوسائٹی میں خوف اور تشویش کی فضا قائم ہوگئی ہے۔
رہائشیوں کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے متعدد افراد کو الٹی، دست، پیٹ درد اور بخار جیسی شکایات ہو رہی تھیں۔ ابتدا میں لوگوں نے اسے عام موسمی بیماری سمجھا، لیکن جب بڑی تعداد میں ایک جیسے علامات سامنے آئیں تو پانی کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پانی کے نمونوں کی جانچ کرائی گئی، جس میں کولی فارم اور ای کولی بیکٹیریا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ بیکٹیریا عموماً آلودہ پانی میں پائے جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے معدے اور آنتوں کی سنگین بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔
اس سوسائٹی میں 11 رہائشی ٹاور ہیں جہاں تقریباً 1640 خاندان رہتے ہیں۔ پانی میں بیکٹیریا کی تصدیق کے بعد ہزاروں افراد میں تشویش پھیل گئی ہے اور کئی خاندان پینے اور کھانا پکانے کے لیے بوتل بند یا صاف شدہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔
رہائشیوں نے الزام لگایا ہے کہ پانی کی سپلائی کے نظام کی بروقت نگرانی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے آلودہ پانی مسلسل لوگوں تک پہنچتا رہا۔ انہوں نے اپارٹمنٹ اونرز ایسوسی ایشن (AOA) اور گریٹر نوئیڈا اتھارٹی پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی سپلائی کے پورے نظام کی مکمل جانچ کی جائے، پائپ لائنوں اور پانی کی ٹینکیوں کی صفائی کرائی جائے اور جلد از جلد محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جائے۔
طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ایسے حالات میں صرف ابلا ہوا یا مکمل طور پر صاف پانی استعمال کیا جائے۔ اگر کسی شخص کو مسلسل الٹی، دست، بخار یا شدید پیٹ درد کی شکایت ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


