تازہ خبریں طرز زندگی
بھارت منڈپم میں وزیر اعظم مودی اور پوتن کی اہم ملاقات شروع، تجارت، توانائی اور دفاع پر گفتگو متوقع


نئی دہلی: برکس سربراہ اجلاس سے قبل نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں وزیر اعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان دوطرفہ ملاقات شروع ہوگئی ہے۔

دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہورہی ہے جب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ ملاقات کے دوران ہندوستان اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ تجارت، توانائی اور دفاعی تعاون جیسے اہم معاملات پر گفتگو متوقع ہے۔

ہندوستان اور روس کے درمیان کئی دہائیوں سے مضبوط تعلقات ہیں۔ دفاع اور توانائی کے علاوہ دونوں ممالک تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

برکس سربراہ اجلاس سے پہلے ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کا جائزہ لینے اور مستقبل کے تعاون کی سمت طے کرنے کے لیے اہم موقع فراہم کررہی ہے۔

تجارت اور اقتصادی تعاون اہم موضوع

مودی اور پوتن کی ملاقات میں تجارت اور اقتصادی تعاون اہم موضوعات میں شامل ہوسکتا ہے۔

دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کو مزید بڑھانے، کاروباری تعلقات مضبوط کرنے اور نئے اقتصادی شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔

عالمی اقتصادی صورتحال میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے درمیان مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مؤثر بنانا اہم ہوگیا ہے۔

ہندوستان اور روس کے درمیان مستقبل میں کاروباری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی بات ہوسکتی ہے۔

توانائی تعاون پر بھی توجہ

توانائی کا شعبہ ہندوستان اور روس کے تعلقات میں انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔

ہندوستان کی توانائی کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں، ایسے میں بڑے توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعاون اقتصادی تحفظ کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

روس ہندوستان کا ایک اہم توانائی شراکت دار رہا ہے۔ عالمی توانائی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی کی محفوظ اور قابل اعتماد فراہمی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

دونوں رہنما توانائی کی فراہمی، طویل مدتی تعاون اور مستقبل میں توانائی کے شعبے میں شراکت داری بڑھانے کے امکانات پر بھی بات کرسکتے ہیں۔

دفاعی تعاون بھی اہم موضوع

ہندوستان اور روس کے درمیان دفاعی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم ستون رہا ہے۔

اسی لیے مودی اور پوتن کی ملاقات میں دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی، دفاعی سازوسامان اور مستقبل کی شراکت داری سے متعلق امور پر گفتگو کا امکان ہے۔

ہندوستان حالیہ برسوں میں دفاعی پیداوار میں خود انحصاری اور مقامی مینوفیکچرنگ پر بھی زور دے رہا ہے۔ اس تناظر میں روس کے ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار کے نئے امکانات بھی اہم ہوسکتے ہیں۔

ہندوستان روس اسٹریٹجک شراکت داری

ہندوستان اور روس کے تعلقات صرف دفاع اور توانائی تک محدود نہیں ہیں۔ دونوں ممالک تجارت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور عالمی سفارت کاری سمیت کئی شعبوں میں تعاون کرتے ہیں۔

برکس جیسے کثیر ملکی پلیٹ فارم پر دونوں ممالک کی موجودگی بھی ان کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید اہم بناتی ہے۔

مودی اور پوتن کی براہ راست ملاقات دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی رابطے کو مزید آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

 برکس کیا ہے؟

برکس دنیا کی بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل ایک اہم کثیر ملکی گروپ ہے۔

حالیہ توسیع کے بعد برکس میں 11 رکن ممالک شامل ہیں۔ ان میں *برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، ہندوستان، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات* شامل ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق برکس کے رکن ممالک دنیا کی تقریباً 49.5 فیصد آبادی، عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 40 فیصد اور عالمی تجارت کے قریب 26 فیصد حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اس اقتصادی اور آبادیاتی طاقت کی وجہ سے برکس عالمی سطح پر ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

 گلوبل ساؤتھ کے لیے اہم پلیٹ فارم

برکس کو گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مضبوط کرنے والے اہم پلیٹ فارم کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

اس گروپ کے ذریعے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اقتصادی ترقی، تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی اداروں میں اصلاحات سمیت مختلف اہم معاملات پر بات چیت کا موقع ملتا ہے۔

ہندوستان گلوبل ساؤتھ سے متعلق مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو آگے بڑھانے پر بھی زور دیتا رہا ہے۔

 جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کے درمیان ہندوستان کی برکس صدارت

ہندوستان کی برکس صدارت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب دنیا کو کئی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔

مختلف خطوں میں تنازعات، تجارتی کشیدگی، توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل عالمی معیشت کو متاثر کررہے ہیں۔

ایسے حالات میں ہندوستان کے لیے برکس کے رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے ساتھ مختلف معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

ہندوستان برکس کے پلیٹ فارم کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات کو آگے بڑھانے اور عالمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

مودی پوتن ملاقات کے نتائج پر نظر

مودی اور پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے نتائج پر سب کی نظر رہے گی، خاص طور پر تجارت، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں کسی نئے تعاون یا اہم فیصلے کے امکانات کو اہم سمجھا جارہا ہے۔

برکس سربراہ اجلاس سے قبل ہونے والی یہ ملاقات ہندوستان روس اسٹریٹجک شراکت داری کی ترجیحات کو سمجھنے کے لحاظ سے بھی اہم ہے۔

آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، توانائی اور دفاعی تعاون کس سمت آگے بڑھتا ہے، اس کا اندازہ اس ملاقات کے بعد سامنے آنے والے بیانات اور فیصلوں سے لگایا جاسکے گا۔

News Image

بہار میں سیلاب کا قہر، 15 اضلاع میں 47 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر

  • بہار میں سیلاب کی صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ریاست کے 15 اضلاع کے 88 بلاکس اور 561 پنچایتوں میں 47 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کا کام تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ اجتماعی کچن، خوراک، ادویات اور مویشیوں کے لیے چارے کی فراہمی بڑھائی جا رہی ہے۔
BY SHIRIN ·
News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·