کلکتہ ہائی کورٹ نے مدرسوں میں *وندے ماترم* کے چھ بند لازمی طور پر گانے کے فیصلے کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی درخواست (PIL) کی سماعت کے دوران اہم مشاہدات پیش کیے۔ قائم مقام چیف جسٹس جسٹس تاپبرتا چکرورتی نے کہا کہ *"اگر مدرسوں میں وندے ماترم گایا جائے گا تو آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔"*
عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ ملک بھر میں ہزاروں ایسے عیسائی تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں تمام طلبہ خدا سے دعا کرتے ہیں، چاہے ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ صرف اس بنیاد پر اعتراض کرتے ہیں کہ دعا کسی خاص مذہبی روایت سے تعلق رکھتی ہے۔
جسٹس چکرورتی نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص سے ایسی بات دہرانے کو کہا جائے جو اس کے مذہبی عقائد کا حصہ نہ ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے مذہب سے خارج ہو جائے گا۔ عدالت کے مطابق تعلیمی اداروں میں بعض قومی یا ثقافتی روایات میں شرکت کو مذہب کی تبدیلی یا مذہبی شناخت کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
یہ مقدمہ اس فیصلے کو چیلنج کرتا ہے جس کے تحت مدرسوں میں *وندے ماترم* کے چھ بند گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ مذہبی آزادی اور آئینی حقوق سے متعلق ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سنے اور مختلف آئینی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔
عدالت نے ابھی اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ آئندہ سماعتوں کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ مدرسوں میں وندے ماترم کے چھ بند لازمی رہیں گے یا نہیں۔ تاہم عدالت کے ریمارکس کے بعد اس معاملے پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


