تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
FCRA ترمیمی بل JPC کے حوالے، اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان تجویز منظور


FCRA ترمیمی بل JPC کے حوالے، اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان تجویز منظور

سکرپشن:
لوک سبھا نے ہنگامے کے درمیان FCRA ترمیمی بل 2026 کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی یعنی JPC کے حوالے کرنے کی تجویز منظور کرلی۔ اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

 اہم خبر

*نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران غیر ملکی تعاون سے متعلق FCRA ترمیمی بل 2026پر لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے درمیان ایوان نے اس بل کو دونوں ایوانوں کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی یعنی JPC کے حوالے کرنے کی تجویز منظور کرلی۔

بل کو JPC کے حوالے کرنے کی تجویز مرکزی وزیر مملکت *نتیانند رائے* نے لوک سبھا میں پیش کی۔ ایوان میں اپوزیشن اراکین کی مخالفت اور نعرے بازی کے باوجود یہ تجویز منظور کرلی گئی۔

اپوزیشن جماعتوں نے FCRA ترمیمی بل کو JPC کے حوالے کرنے کی مخالفت کی اور حکومت سے بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے بل کی دفعات پر تفصیلی بحث اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

پوزیشن نے مخالفت کیوں کی؟

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی تعاون اور اس سے متعلق اداروں کے قوانین میں تبدیلیاں وسیع اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔ اپوزیشن نے حکومت سے بل کی دفعات واضح کرنے اور پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر *کرن رجیجو* نے کہا کہ اپوزیشن کو بل کی ایسی کوئی مخصوص دفعہ بتانی چاہیے جو اقلیتوں کے خلاف ہو۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بل کو JPC کے حوالے کرنے سے اس کی دفعات کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے گا۔ کمیٹی مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کے ساتھ متعلقہ فریقوں کی رائے بھی حاصل کرسکتی ہے۔

JPC میں 31 ارکان ہوں گے

FCRA ترمیمی بل کی جانچ کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں مجموعی طور پر 31 ارکان* ہوں گے۔

ان میں 21 ارکان لوک سبھا* سے جبکہ *10 ارکان راجیہ سبھا* سے ہوں گے۔

لوک سبھا کے 21 ارکان کو لوک سبھا اسپیکر نامزد کریں گے، جبکہ راجیہ سبھا کے 10 ارکان کو راجیہ سبھا کے چیئرمین نامزد کریں گے۔

JPC بل کی مختلف دفعات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور معلومات بھی حاصل کرسکتی ہے۔

ہنگامے کے درمیان تجویز منظور

لوک سبھا میں جب بل کو JPC کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی گئی تو اپوزیشن ارکان کا احتجاج جاری تھا۔ ایوان میں ہنگامے کے باوجود تجویز پر کارروائی مکمل کی گئی اور اسے منظور کرلیا گیا۔

اس معاملے نے ایک مرتبہ پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔ FCRA کے قوانین غیر ملکی ذرائع سے ملنے والے مالی تعاون اور اسے حاصل کرنے والے اداروں کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اب آگے کیا ہوگا؟

JPC کی تشکیل کے بعد کمیٹی بل کی دفعات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ ارکان مجوزہ تبدیلیوں، ان کے ممکنہ اثرات اور ضروری ترامیم پر غور کرسکتے ہیں۔

کمیٹی مختلف متعلقہ فریقوں، ماہرین اور اداروں سے رائے بھی حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے بعد اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

JPC کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت کے لیے بل کو مزید پارلیمانی کارروائی کے لیے آگے بڑھانے کا راستہ واضح ہوگا۔ اپوزیشن کو بھی کمیٹی کے سامنے اپنے اعتراضات اور تجاویز رکھنے کا موقع ملے گا۔

اب توجہ JPC کی تشکیل، اس کی کارروائی اور مستقبل میں پیش کی جانے والی رپورٹ پر ہوگی۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·