ہے۔ اب بورڈ نئے جانشین کے انتخاب کی تیاری کرے گا۔ ہم خبر
نی دہلی:میں قیادت کی ایک بڑی تبدیلی ہونے جارہی ہے۔ کے چیئرمین *این چندرشیکھرن* نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 20 فروری 2027 کو اپنی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ چیئرمین بننے کی پیشکش قبول نہیں کریں گے۔
چندرشیکھرن نے Tکے بورڈ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے جانشین کا انتخاب جلد کیا جائے، تاکہ قیادت کی منتقلی کا عمل مناسب انداز میں مکمل ہوسکے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ کئی ماہ سے ان کی تیسری مدت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار تھی۔ فروری 2026 میں ان کی دوبارہ تقرری کے معاملے پر بورڈ میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا، جس کے بعد معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
تیسری مدت پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا
این چندرشیکھرن کی موجودہ مدت فروری 2027 میں ختم ہونے والی ہے۔ اس سے پہلے ان کے مزید پانچ سال کے لیے چیئرمین برقرار رہنے کی تجویز پر غور کیا جارہا تھا۔
تاہم 24 فروری 2026 کو ہونے والی Tبورڈ میٹنگ میں اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ رپورٹس کے مطابق کے چیئرمین نوئل ٹاٹا نے گروپ کی بعض نئی کمپنیوں کی کارکردگی، سرمایہ کاری اور مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق خدشات اٹھائے تھے۔ ([India Today][2])
اس اختلاف کے باعث چندرشیکھرن کی دوبارہ تقرری کا معاملہ کئی ماہ تک زیر التوا رہا۔
چندرشیکھرن نے خود صورتحال واضح کردی
تقریباً چھ ماہ تک کوئی حتمی فیصلہ نہ ہونے کے بعد چندرشیکھرن نے اب خود واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ مدت ختم ہونے کے بعد مزید مدت کے لیے خود کو امیدوار نہیں بنائیں گے۔
انہوں نے بورڈ سے کہا ہے کہ نئے جانشین کا انتخاب جلد کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ گروپ کے کئی اہم اسٹریٹجک منصوبے اس وقت اہم مرحلے میں ہیں اور ایسے میں فروری 2027 کے بعد قیادت کے حوالے سے وضاحت ضروری ہے۔
یہ وضاحت ملازمین، سرمایہ کاروں، کاروباری شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے بھی اہم سمجھی جارہی ہے۔
کا کردار اہم
ے پاس میں تقریباً 66 فیصد حصہ داری ہے، اس لیے گروپ کی قیادت سے متعلق فیصلوں میں ٹرسٹس کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
چندرشیکھرن کے بعد نئے چیئرمین کا انتخاب اس لیے بھی اہم ہوگا کیونکہ نئے سربراہ کو کے مختلف شعبوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کی ذمہ داری بھی سنبھالنی ہوگی۔
کن معاملات پر اختلاف رہا؟
گزشتہ کئی ماہ کے دوران کے اندر متعدد اسٹریٹجک معاملات پر بحث ہوتی رہی ہے۔ ان میں کا مستقبل، ممکنہ لسٹنگ، سرمایہ کی تقسیم، نئی کمپنیوں کی کارکردگی اور Air India سے متعلق مالی چیلنجز شامل ہیں۔
فروری میں چندرشیکھرن کی تیسری مدت پر ہونے والی بحث کے دوران بھی ان معاملات کو اہمیت حاصل رہی۔ گروپ کے بعض نئے کاروباروں کی کارکردگی اور سرمایہ کاری کی رفتار سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے تھے۔
چندرشیکھرن کے دور کی اہم کامیابیاں
این چندرشیکھرن نے 2017 میں کی قیادت سنبھالی تھی۔ وہ کی تاریخ میں خاندان سے باہر کے پہلے چیئرمین بنے۔
ان کے دور میں گروپ نے کئی بڑے اسٹریٹجک فیصلے کیے۔ ان میں 2022 میں کا حصول ایک اہم فیصلہ تھا، جس کے ذریعے یہ ایئرلائن کئی دہائیوں بعد دوبارہ کا حصہ بنی۔
اس کے علاوہ ایوی ایشن کاروبار کو مضبوط بنانے، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک وہیکل بیٹریز اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی۔
ے ڈیجیٹل کاروبار کو بھی وسعت دی اور آن لائن ریٹیل اور ہیلتھ ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
نئے چیئرمین کے سامنے بڑی ذمہ داری
چندرشیکھرن کے بعد کے نئے چیئرمین کا انتخاب گروپ کے لیے ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔
نئے چیئرمین کو سمیت بڑے کاروباروں کی نگرانی، نئی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ منصوبوں کی پیش رفت، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور گروپ کی طویل مدتی حکمت عملی پر توجہ دینی ہوگی۔
اس کے ساتھ اور گروپ کی مختلف کمپنیوں کے بورڈز کے درمیان بہتر تال میل قائم رکھنا بھی نئے سربراہ کی اہم ذمہ داری ہوگی۔
اب کے بورڈ کی فوری ترجیح یہ ہوگی کہ فروری 2027 سے پہلے نئے جانشین کا انتخاب کیا جائے اور قیادت کی منتقلی اس انداز میں مکمل کی جائے کہ گروپ کے بڑے کاروبار اور منصوبے کسی غیر یقینی صورتحال سے متاثر نہ ہوں۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


