تازہ خبریں طرز زندگی
1NALSAR تنازع پر سپریم کورٹ سخت، چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، &یہ میرے اور طلبہ کے درمیان کا معاملہ ہے


نئی دہلی:NALSAR یونیورسٹی سے متعلق تنازع میں سپریم کورٹ نے طلبہ کے حقوق کے حوالے سے اہم موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے طلبہ کے پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہوئے بار کونسل آف انڈیا کی مداخلت پر ناراضی ظاہر کی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے معاملے پر اہم تبصرہ کیا اور طلبہ کے خلاف کسی بھی قسم کی تعزیری کارروائی سے متعلق احتیاط برتنے کی ہدایت دی۔

سپریم کورٹ نے بار کونسل سے اس معاملے میں جواب بھی طلب کیا ہے۔ عدالت نے فی الحال NALSAR کے کسی طالب علم یا پروفیسر کے خلاف تعزیری کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

تنازع شروع کیسے ہوا؟

یہ معاملہ NALSAR یونیورسٹی کی ایک تقسیم اسناد تقریب سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ کچھ طلبہ نے تقریب میں چیف جسٹس کی شرکت پر اعتراض کیا اور اس کے خلاف ایک مہم شروع کی۔

طلبہ نے پُرامن طریقے سے اپنی ناراضی اور اختلاف کا اظہار کیا۔ بعد میں یہ معاملہ یونیورسٹی سے نکل کر قانونی اداروں تک پہنچ گیا اور طلبہ کے مستقبل سے متعلق سوالات پیدا ہونے لگے۔

بار کونسل کے حکم سے تنازع بڑھا

معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب بار کونسل آف انڈیا نے ریاستی بار کونسلوں کو NALSAR سے فارغ ہونے والے طلبہ کے وکیل کی حیثیت سے انرولمنٹ کے سلسلے میں ہدایات جاری کیں۔

قانون کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کے لیے وکیل کی حیثیت سے انرولمنٹ ان کے پیشہ ورانہ مستقبل کا اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس لیے انرولمنٹ سے متعلق کسی پابندی کا براہ راست اثر طلبہ کے کیریئر پر پڑ سکتا ہے۔

 سپریم کورٹ کا موقف

معاملہ سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد عدالت نے پورے معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے بار کونسل کے کردار اور مداخلت پر سوال اٹھائے۔

چیف جسٹس کے تبصرے سے یہ بات سامنے آئی کہ معاملہ ان کے اور طلبہ کے درمیان ہے اور طلبہ کو پُرامن انداز میں اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی طالب علم کے پُرامن احتجاج کی وجہ سے اس کے تعلیمی یا پیشہ ورانہ مستقبل کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔

طلبہ اور اساتذہ کے خلاف کارروائی پر روک

سپریم کورٹ نے فی الحال NALSAR کے طلبہ اور اساتذہ کے خلاف تعزیری کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

اس ہدایت سے معاملے سے متعلق طلبہ کو عارضی راحت ملی ہے۔ اب معاملے کی مزید سماعت اور متعلقہ اداروں کے جواب کے بعد اگلی صورتحال واضح ہوگی۔

 بار کونسل سے جواب طلب

عدالت نے بار کونسل سے جواب طلب کیا ہے۔ اب بار کونسل کو عدالت کے سامنے اپنے اقدام کی بنیاد اور NALSAR طلبہ کے انرولمنٹ سے متعلق ہدایات کی وجہ واضح کرنا ہوگی۔

یہ بھی اہم سوال ہے کہ کیا کسی طالب علم کے پُرامن احتجاج کی بنیاد پر اس کے پیشہ ورانہ مستقبل کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔

حکم واپس لینے کا معاملہ

معاملے سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بار کونسل کی ہدایات کے بعد مخالفت ہوئی اور کچھ ہی وقت بعد اس حکم کو واپس لینے کی بات سامنے آئی۔

تاہم حکم واپس لیے جانے کے باوجود معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور بعد میں سپریم کورٹ کے سامنے پہنچا۔

طلبہ کے حقوق پر بڑی بحث

NALSAR کا معاملہ طلبہ کے حقوق، یونیورسٹی کی خودمختاری اور قانونی اداروں کے کردار سے متعلق ایک وسیع بحث کو سامنے لاتا ہے۔

طلبہ کو پُرامن طریقے سے اختلاف ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور قواعد کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پُرامن احتجاج کو طلبہ کے تعلیمی یا پیشہ ورانہ مستقبل سے کس حد تک جوڑا جاسکتا ہے۔

اب اس معاملے میں سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت اور بار کونسل کی جانب سے پیش کیے جانے والے جواب کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اسی کے بعد یہ واضح ہوگا کہ NALSAR تنازع کس سمت آگے بڑھتا ہے۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·