تازہ خبریں طرز زندگی
ایئر انڈیا کی پرواز 30 سیکنڈ میں 425 فٹ نیچے آئی، شدید ٹربولنس کا معاملہ


*نئی دہلی۔* فوکٹ سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI-2379 کو دورانِ سفر شدید ٹربولنس کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق طیارے کی عمودی حرکت میں اچانک تبدیلی آئی اور تقریباً 30 سیکنڈ کے دوران طیارہ 425 فٹ نیچے آیا۔

اس دوران طیارے کی عمودی رفتار منفی 1600 فٹ فی منٹ تک پہنچ گئی۔ طیارے کی اونچائی میں اچانک تبدیلی کے باعث کیبن میں موجود ان مسافروں کے لیے صورتحال زیادہ خطرناک ہوگئی جنہوں نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی ہوئی تھی۔

سیٹ بیلٹ نہ باندھنے والے مسافر طیارے کی اچانک عمودی حرکت کے دوران اپنی نشست سے اوپر اٹھ سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ مسافر کیبن کے اوپری حصے سے ٹکرائے اور بعد میں نشستوں یا گلیارے میں گر گئے۔

ٹربولنس کے دوران طیارے کے اندر کچھ وقت کے لیے افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی اور کئی مسافروں کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ بعد میں طیارے نے اپنا سفر جاری رکھا اور محفوظ طریقے سے دہلی پہنچ گیا۔

30 سیکنڈ میں طیارہ 425 فٹ نیچے آیا

ابتدائی جانچ میں سب سے اہم بات طیارے کی عمودی رفتار اور اچانک اونچائی کم ہونے سے متعلق ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق ٹربولنس کے دوران طیارے کی عمودی رفتار کچھ وقت کے لیے منفی 1600 فٹ فی منٹ تک پہنچ گئی تھی۔

تقریباً 30 سیکنڈ کے دوران طیارے کی اونچائی میں 425 فٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح کی اچانک عمودی حرکت طیارے کے اندر موجود افراد پر پڑنے والی قوت میں بھی فوری تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔

جن مسافروں نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی ہوتی، وہ ایسی صورتحال میں اپنی نشست سے اوپر اٹھ سکتے ہیں اور کیبن کے کسی حصے سے ٹکرا سکتے ہیں یا دوبارہ نیچے گر سکتے ہیں۔

چند لمحوں کے لیے بے وزنی جیسی کیفیت

شدید ٹربولنس کے دوران طیارے میں موجود مسافروں کو کچھ لمحوں کے لیے بے وزنی جیسا احساس ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ طیارہ قابو سے باہر ہوگیا تھا، بلکہ طیارے کی عمودی حرکت میں اچانک تبدیلی کے باعث مسافروں پر محسوس ہونے والی معمول کی قوت عارضی طور پر کم ہوسکتی ہے۔

اگر مسافر نے سیٹ بیلٹ نہ باندھی ہو تو وہ اپنی نشست سے اوپر اٹھ سکتا ہے۔ طیارے کی حرکت معمول پر آنے کے بعد مسافر دوبارہ تیزی سے نیچے گر سکتا ہے، جس سے چوٹ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اسی وجہ سے ہوا بازی کے ماہرین پرواز کے دوران، خاص طور پر نشست پر بیٹھے ہوئے، سیٹ بیلٹ باندھے رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔

مون سون کے دوران ٹربولنس کیوں بڑھ سکتا ہے

ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران ہلکا اور درمیانے درجے کا ٹربولنس نسبتاً عام ہوسکتا ہے۔ اس موسم میں فضا میں نمی زیادہ ہوتی ہے اور بادلوں کی سرگرمی بھی بڑھ جاتی ہے۔

خاص طور پر کیومولونمبس یعنی سی بی بادلوں کے اندر اور اردگرد تیز رفتار سے اوپر اور نیچے جانے والی ہوائیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہ طاقتور ہوائی بہاؤ طیارے میں شدید ٹربولنس پیدا کر سکتے ہیں۔

ایسے موسمی حالات میں ہوا کی رفتار اور سمت میں اچانک تبدیلی طیارے کی اونچائی اور رفتار کو متاثر کرسکتی ہے۔

 شدید ٹربولنس کی مثال

ماہرین نے شدید ٹربولنس کی کیفیت کو تیز رفتار گاڑی کے اچانک گہرے گڑھے میں جانے سے تشبیہ دی ہے۔ جیسے سڑک پر اچانک گڑھا آنے سے گاڑی میں بیٹھے افراد کو زوردار جھٹکا محسوس ہوتا ہے، اسی طرح ہوا میں اچانک تبدیلی سے طیارے میں موجود مسافروں کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔

طیارے ایسے حالات برداشت کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، لیکن مسافروں کے لیے بڑا خطرہ اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب انہوں نے سیٹ بیلٹ نہ باندھی ہو۔

مسافروں کے لیے سب سے اہم حفاظتی اقدام

ٹربولنس کی ہر صورتحال کا مکمل طور پر پہلے سے اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا۔ موسم اور ہوا کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔

ایسی صورت میں مسافروں کے لیے سب سے آسان اور اہم حفاظتی اقدام سیٹ بیلٹ باندھے رکھنا ہے۔ اگر مسافر اپنی نشست پر بیٹھا ہے تو اسے سیٹ بیلٹ باندھے رکھنی چاہیے، چاہے اس وقت طیارے میں ٹربولنس محسوس نہ ہو رہی ہو۔

اچانک آنے والے جھٹکوں کی صورت میں سیٹ بیلٹ مسافر کو نشست سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے اور چوٹ کے خطرے کو کم کرسکتی ہے۔

طیارہ محفوظ طریقے سے دہلی پہنچا

شدید ٹربولنس کے باوجود ایئر انڈیا کی پرواز نے بعد میں اپنا سفر مکمل کیا اور محفوظ طریقے سے دہلی پہنچ گئی۔

ابتدائی جانچ میں سامنے آنے والے 425 فٹ کی اونچائی میں کمی اور منفی 1600 فٹ فی منٹ کی عمودی رفتار کے اعداد و شمار واقعے کی شدت کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔

ٹربولنس تجارتی ہوابازی کا ایک معروف حصہ ہے اور طیارے ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ پرواز کے دوران حفاظتی ہدایات پر عمل کرنا اور سیٹ بیلٹ باندھے رکھنا کتنا ضروری ہے۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·