سینٹرل یونیورسٹی جھارکھنڈ میں میس فیس میں اضافے اور کھانے کے معیار کو لے کر طلبہ نے احتجاج کیا ہے۔ دو طلبہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ طلبہ نے پرانی فیس کے مطابق کھانا فراہم کرنے، کھانے کے معیار اور صفائی کو بہتر بنانے اور میس نظام میں شفافیت لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ سے بات چیت کرکے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مرکزی خبر
جھارکھنڈ کی سینٹرل یونیورسٹی میں میس فیس میں اضافے اور کھانے کے معیار کو لے کر طلبہ کا احتجاج سامنے آیا ہے۔ اتوار کے روز فیس میں اضافے سے ناراض طلبہ نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے باہر دھرنا دیا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے سے مقرر فیس کے مطابق ہی کھانا فراہم کیا جائے۔ طلبہ نے اضافی فیس ادا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ فیس میں اضافہ کرنے سے پہلے کھانے کے معیار، مقدار اور صفائی پر توجہ دی جانی چاہیے۔
احتجاج کی اطلاع ملنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ سے بات چیت کی۔ ڈاکٹر انوراگ لنڈا کی قیادت میں انتظامیہ کے نمائندوں نے طلبہ کے ساتھ گفتگو کی۔ ڈی ایس ڈبلیو نے بھی معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے طلبہ کے مسائل سنے۔
نئی میس ایجنسی کے بعد فیس میں اضافہ
طلبہ کے مطابق پہلے میس چلانے کی ذمہ داری جس ایجنسی کے پاس تھی، اس وقت فیس نسبتاً کم مقرر کی گئی تھی۔ نئی ایجنسی کے آنے کے بعد میس فیس میں اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد طلبہ میں ناراضگی پیدا ہوئی۔
طلبہ کا مطالبہ ہے کہ پہلے سے مقرر فیس کے مطابق ہی کھانا فراہم کیا جائے اور ان سے اضافی رقم وصول نہ کی جائے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر فیس بڑھائی گئی ہے تو کھانے کے معیار اور میس کی صفائی میں بھی واضح بہتری ہونی چاہیے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو میس فیس اور انتظامات سے متعلق ان کے مطالبات پر یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ تاہم طلبہ کا کہنا ہے کہ صرف یقین دہانی کافی نہیں ہے اور مسائل کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
دو طلبہ بھوک ہڑتال پر
میس کے معاملے پر جاری احتجاج کے دوران دو طلبہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ اس وقت ہر ہاسٹل طالب علم سے ماہانہ 3071 روپے میس فیس وصول کی جا رہی ہے۔
طلبہ نے موجودہ نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹوکن سسٹم نافذ کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام سے کھانے اور ادائیگی کے عمل میں زیادہ شفافیت لائی جاسکتی ہے۔
کھانے کے معیار اور صفائی پر سوال
طلبہ نے میس میں فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ فیس میں اضافے کے باوجود کھانے کا معیار اطمینان بخش نہیں ہے۔
طلبہ نے میس کی صفائی اور مجموعی انتظامات پر بھی اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ سے وصول کی جانے والی رقم کے مطابق انہیں بہتر اور معیاری کھانا فراہم کیا جانا چاہیے۔
طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو دیے گئے خط میں سات نکاتی مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان میں پیشہ ور باورچیوں کو روٹیشن کی بنیاد پر مقرر کرنا، مختلف ہاسٹل کی ضروریات کے مطابق مینو میں تبدیلی، معیاری غذائی اشیا کا استعمال اور میس فیس کی پیشگی وصولی ختم کرنا شامل ہے۔
طلبہ نے کارروائی کی دھمکی کا الزام لگایا
احتجاج کے دوران طلبہ نے انتظامیہ پر کچھ طلبہ کو ہاسٹل سے نکالنے کی دھمکی دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اپنے مطالبات کے لیے پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف انفرادی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔
طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج پُرامن ہے اور انتظامیہ کو مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے۔
مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
طلبہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک میس فیس، کھانے کے معیار، صفائی اور انتظامات سے متعلق ان کے مطالبات پر ٹھوس کارروائی نہیں کی جاتی، احتجاج جاری رہے گا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ مثبت پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں وہ غیر معینہ مدت تک ہڑتال جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ سے بات چیت کرکے ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اب توجہ اس بات پر ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کے سات نکاتی مطالبات پر کیا عملی فیصلہ کرتی ہے اور کیا دونوں فریق میس فیس اور کھانے کے معیار کے معاملے پر کسی حتمی حل تک پہنچ پاتے ہیں۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


