اتر پردیش کے ضلع جھانسی میں جمعرات کو ایک افسوسناک سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں مبینہ مافیا عتیق احمد کے سب سے چھوٹے بیٹے ابان احمد اور اس کے ایک ساتھی کی جان چلی گئی۔ یہ حادثہ جھانسی-کانپور قومی شاہراہ پر پونچھ تھانہ علاقے کے گاؤں کھلی کے قریب پیش آیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ابان احمد اپنے بڑے بھائی *علی احمد* سے ملاقات کے لیے جھانسی جا رہا تھا، جو اس وقت جھانسی ضلع جیل میں بند ہے۔ سفر کے دوران ان کی کریٹا گاڑی اچانک بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
حادثے کے بعد مقامی لوگوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور گاڑی میں پھنسے افراد کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ ڈاکٹروں نے ابان احمد اور اس کے ساتھی احجم عرف سونو کو مردہ قرار دے دیا۔
حادثے میں محمد زید، عمر اور ایک دیگر شخص شدید زخمی ہوئے، جن کا علاج جاری ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
سینئر پولیس افسران نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں تیز رفتاری اور گاڑی کا بے قابو ہونا حادثے کی ممکنہ وجہ معلوم ہو رہی ہے، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پولیس نے جائے حادثہ سے شواہد جمع کر لیے ہیں اور یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا گاڑی میں کوئی تکنیکی خرابی تو موجود نہیں تھی۔ زخمی افراد کے بیانات بھی تفتیش کا حصہ ہوں گے۔
عتیق احمد کے خاندان کا جھانسی سے یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے 2023 میں اس کے بیٹے اسد احمد کی جھانسی میں پولیس مقابلے میں موت ہوئی تھی، جبکہ بعد میں علی احمد کو جھانسی جیل منتقل کیا گیا تھا۔ اب ابان احمد کی سڑک حادثے میں موت کے بعد ایک بار پھر جھانسی خبروں میں آ گیا ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


