NEET-UG امتحان میں سوالیہ پرچے کی سکیورٹی اور مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر مرکز نے سپریم کورٹ میں امتحانی نظام کی تفصیلات پیش کیں۔ مرکز نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ نظام میں سکیورٹی کی کئی سطحیں موجود ہیں، اگرچہ اس عمل میں انسانی مداخلت بھی شامل ہے۔ حکومت نے سوالات کی تیاری، انتخاب، پرنٹنگ، سیلنگ اور امتحانی مراکز تک پہنچانے کے پورے عمل کی وضاحت کی۔
مین باڈی
نئی دہلی۔ NEET-UG امتحان کے سوالیہ پرچے کی سکیورٹی اور مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران مرکز نے سپریم کورٹ کے سامنے امتحانی نظام کی تفصیلی وضاحت پیش کی۔
مرکز نے عدالت کو بتایا کہ NEET-UG امتحان کے موجودہ نظام میں سکیورٹی کی کئی سطحیں رکھی گئی ہیں، جس کی وجہ سے غیر مجاز افراد کے لیے سوالیہ پرچے تک پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امتحانی عمل میں کچھ مراحل پر انسانی مداخلت موجود رہتی ہے۔
مرکز کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو سوالیہ پرچے کی تیاری سے لے کر اس کی پرنٹنگ اور امتحانی مراکز تک ترسیل کے عمل کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے 100 سوالات پر مشتمل فزکس کے پرچے کی مثال دیتے ہوئے پورے طریقہ کار کو سمجھایا۔
پہلے 500 سوالات کا بینک تیار ہوتا ہے
مرکز کے مطابق امتحانی سوالیہ پرچہ تیار کرنے کا عمل مختلف ماڈریٹر گروپس سے شروع ہوتا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں ماڈریٹرز کے کئی گروپس تقریباً 500 سوالات پر مشتمل ایک بڑا سوالیہ بینک تیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے ماڈریٹرز اسی سوالیہ بینک میں سے سوالات کا انتخاب کرتے ہیں۔
بتایا گیا کہ مختلف گروپس 100، 100 سوالات منتخب کرتے ہیں اور اس عمل کے ذریعے چار الگ الگ سوالیہ پرچے تیار کیے جاتے ہیں۔
اس کثیر سطحی عمل کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ امتحان میں استعمال ہونے والے حتمی پرچے پر ابتدائی مرحلے میں کسی ایک فرد یا گروپ کا مکمل کنٹرول نہ ہو۔
چار پرچوں میں سے دو کا انتخاب
مرکز نے عدالت کو بتایا کہ چار الگ الگ سوالیہ پرچے تیار ہونے کے بعد ان میں سے دو پرچوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ انتخاب امتحانی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ ہے کہ امتحان سے پہلے کسی ایک شخص کے لیے یہ جاننا مشکل ہو کہ آخرکار کون سا سوالیہ پرچہ استعمال کیا جائے گا۔
سی سی ٹی وی اور سکیورٹی کے درمیان پرنٹنگ
منتخب سوالیہ پرچوں کو دو الگ الگ پرنٹنگ پریسوں تک ایک سیل شدہ باکس میں پہنچایا جاتا ہے۔ مرکز کے مطابق اس پورے عمل میں سکیورٹی کے متعدد انتظامات کیے جاتے ہیں۔
پرنٹنگ پریس میں سی سی ٹی وی نگرانی کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی بھی کی جاتی ہے۔ سوالیہ پرچے والے باکس کو مخصوص طریقہ کار کے تحت ہی کھولا جا سکتا ہے۔
حکومت کے مطابق باکس کے لیے ڈیجیٹل چابی کا انتظام ہوتا ہے۔ پرنٹنگ پریس کا ذمہ دار شخص براہ راست باکس نہیں کھول سکتا بلکہ اسے امتحانی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور ضروری کوڈ حاصل کرنا ہوتا ہے۔
باکس کھلنے کے بعد بھی پابندیاں
مرکز نے عدالت کو بتایا کہ سیل شدہ باکس کھولنے کے بعد بھی سکیورٹی انتظامات برقرار رہتے ہیں۔ متعلقہ پرنٹنگ علاقے میں غیر مجاز افراد کے داخلے پر پابندی ہوتی ہے۔
حکومت کے مطابق پرنٹنگ کے عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد امتحانی مواد کی نقل و حرکت اور پرنٹنگ کے عمل کا ریکارڈ محفوظ رکھنا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی جانچ کی جا سکے۔
پرنٹنگ پریس کو امتحانی مرکز کی معلومات نہیں
مرکز نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ پرنٹنگ پریس میں موجود متعلقہ شخص کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تیار کیے جانے والے سوالیہ پرچے کو آخر کس امتحانی مرکز پر بھیجا جائے گا۔
حکومت کے مطابق معلومات کو محدود رکھنے کا یہ طریقہ بھی سکیورٹی کا ایک حصہ ہے۔ اس سے امتحان شروع ہونے سے پہلے سوالیہ پرچے کی غیر مجاز معلومات باہر جانے کے امکانات کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سوالیہ پرچے اور OMR شیٹس کو سیل شدہ لفافے میں رکھا جاتا ہے۔ مرکز کے مطابق لفافہ کھولنے کے لیے اس کی سیل توڑنا ضروری ہوتا ہے۔
مرکز نے انسانی مداخلت کو تسلیم کیا
مرکز نے نظام کو محفوظ قرار دیتے ہوئے یہ بھی تسلیم کیا کہ امتحانی عمل میں انسانی مداخلت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
سوالات تیار کرنے، ان کا انتخاب کرنے، پرنٹنگ، پیکیجنگ، ترسیل اور امتحان سے متعلق دیگر مراحل میں مجاز افراد شامل ہوتے ہیں۔
حکومت کا موقف یہ ہے کہ انسانی شمولیت کا موجود ہونا خود بخود نظام کو غیر محفوظ ثابت نہیں کرتا، بلکہ متعدد سکیورٹی مراحل، محدود رسائی اور نگرانی کا مقصد غیر مجاز رسائی کے امکانات کو کم کرنا ہے۔
معاملہ کیوں اہم ہے؟
NEET-UG ملک کا ایک اہم داخلہ امتحان ہے اور اس کے نتیجے کا براہ راست اثر میڈیکل تعلیم میں داخلے کے خواہشمند طلبہ پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے سوالیہ پرچے کی سکیورٹی اور امتحانی عمل کی شفافیت کا معاملہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
مرکز کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تفصیلات کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ سوالات کی تیاری سے لے کر امتحانی مراکز تک سوالیہ پرچوں کی ترسیل کے دوران کئی سطحوں پر سکیورٹی انتظامات موجود ہیں۔
تاہم کسی بھی امتحانی نظام کی کامیابی صرف اس کے ڈیزائن پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہوتی ہے کہ مقررہ قواعد پر کتنی سختی سے عمل کیا جاتا ہے، نگرانی کس طرح کی جاتی ہے اور کسی بے ضابطگی کی صورت میں کتنی تیزی سے کارروائی ہوتی ہے۔
اسی لیے NEET-UG کے معاملے میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی سکیورٹی تفصیلات طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے اہم ہیں۔ امتحانی نظام پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے شفافیت، جواب دہی اور مؤثر نگرانی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


