تازہ خبریں طرز زندگی
نیپال کی مدد پر ششی تھرور کی تعریف، میڈیا کو حساس رہنے کا مشورہ


نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد بھارت کی جانب سے فراہم کی جانے والی امدادی کارروائیوں کا کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں پڑوسی ملک کی مدد کرنا ایک فطری ذمہ داری ہے۔ تاہم، انہوں نے بھارتی میڈیا سے اپیل کی کہ امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کی رپورٹنگ کے دوران حساسیت اور احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے۔

کھٹمنڈو میں ایک پروگرام کے دوران ششی تھرور نے بھارت اور نیپال کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سماجی رشتے انتہائی مضبوط ہیں۔ تاہم ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی احترام بھی ضروری ہے۔

2015 کے زلزلے کی کوریج کا حوالہ

ششی تھرور نے 2015 میں نیپال میں آنے والے تباہ کن زلزلے کا حوالہ دیا۔ اس وقت بھارت نے نیپال میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کی تھیں اور ضروری مدد فراہم کی تھی۔ تاہم، تھرور کے مطابق بھارتی میڈیا کے ایک حصے نے جس انداز میں امدادی کارروائیوں کی کوریج کی، اس سے نیپال کے عوام میں ناراضی پیدا ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بحران سے متاثرہ لوگوں کو بار بار یہ احساس دلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ ان کی مدد کون کر رہا ہے۔ انسانی امداد کا بنیادی مقصد متاثرین کی مشکلات کم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ امداد کو تشہیر کا ذریعہ بنانا۔

انہوں نے بھارتی میڈیا سے اپیل کی کہ مستقبل میں ایسے حالات میں رپورٹنگ کرتے وقت نیپال کے عوام کے جذبات اور حساسیت کا خیال رکھا جائے۔

 بھارت کی موجودہ امداد کی تعریف

نیپال میں حالیہ سیلاب کے بعد بھارت کی جانب سے فراہم کی گئی فوری امداد کی تعریف کرتے ہوئے تھرور نے کہا کہ مشکل وقت میں پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضرورت پڑنے پر بھارت نیپال کو مزید امداد بھی فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق بھارت اور نیپال کے درمیان جغرافیائی قربت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بھی گہرے تعلقات موجود ہی نیپال کو خودمختار اور برابر ملک سمجھنے پر زور

ششی تھرور نے کہا کہ نیپال ایک خودمختار اور برابر ملک ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور مذاکرات باہمی احترام کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

انہوں نے 2015 کے بعد بھارت اور نیپال کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔ تھرور نے اس دور کی مبینہ اقتصادی ناکہ بندی کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

ان کے مطابق نیپال کے ساتھ بھارت کی پالیسی میں حساسیت اور بات چیت کو اہمیت دینی چاہیے۔ اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔روایتی تعلقات سے آگے بڑھنے کی ضرورت

تھرور نے بھارت اور نیپال کے روایتی 'روٹی بیٹی' تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رشتہ یقیناً اہم ہے، لیکن دونوں ممالک کے تعلقات صرف ثقافتی اور سماجی روابط تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔

ان کے مطابق موجودہ دور میں باعزت مذاکرات، تعاون اور ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ نیپال کے عوام کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ان کی رائے اور خدشات بھارت کے لیے اہم ہیں۔

میڈیا کا کردار بھی اہم

ششی تھرور نے میڈیا کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق جس طرح حکومتوں کو بھارت اور نیپال کے تعلقات کی حساسیت کو سمجھنا چاہیے، اسی طرح میڈیا کو بھی ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کرنی چاہیے۔

قدرتی آفت کے دوران امدادی سامان، بچاؤ کی کارروائیوں اور حکومتی مدد سے متعلق معلومات عوام تک پہنچانا ضروری ہے، لیکن رپورٹنگ کا انداز ایسا ہونا چاہیے جس سے متاثرہ لوگوں کی عزت نفس اور جذبات مجروح نہ ہوں۔ بھارت نیپال تعلقات کے لیے کیا پیغام؟

ششی تھرور کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیپال ایک بڑی قدرتی آفت کے اثرات سے گزر رہا ہے اور بھارت کی جانب سے اسے امدادی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے بیان میں ایک طرف بھارت کی انسانی امداد کی تعریف ہے، تو دوسری جانب دونوں ممالک کے تعلقات میں حساسیت برقرار رکھنے کی اپیل بھی ہے۔

تھرور کے مطابق بھارت اور نیپال کے تعلقات صرف حکومتوں تک محدود نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان کئی نسلوں سے سماجی اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ اس لیے بحران کے وقت امداد کے ساتھ عزت، احترام اور حساسیت بھی ضروری ہے۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·