نیپال میں شدید بارش کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے کئی علاقوں میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سیلابی پانی نے گھروں، سڑکوں، عوامی عمارتوں اور تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسی تباہی کے دوران دھادنگ کے ایک اسکول سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چند منٹ کا فرق کئی بچوں کے لیے زندگی اور خطرے کے درمیان فرق بن گیا۔
دھادنگ کے اس اسکول میں جس وقت سیلابی پانی تیزی سے بڑھ رہا تھا، بچے لنچ بریک پر تھے۔ اس وجہ سے کئی بچے اپنی کلاسوں کے اندر موجود نہیں تھے۔ جیسے ہی اساتذہ کو پانی کے تیزی سے بڑھنے کا اندازہ ہوا، انہوں نے بچوں کو فوری طور پر محفوظ جگہ کی طرف جانے کی ہدایت دی۔
اساتذہ نے بچوں سے کہا کہ وہ اپنے اسکول بیگ، ٹفن اور دیگر سامان جمع کرنے میں وقت ضائع نہ کریں اور فوراً اسکول سے باہر نکلیں۔ یہ فیصلہ خاص طور پر چھوٹی کلاسوں کے بچوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا۔
کلاس 2 میں پڑھنے والے بچے بھی اس واقعے میں محفوظ رہے۔ سیلابی پانی انتہائی تیزی سے اسکول کے اندر داخل ہورہا تھا۔ ایسے وقت میں بچوں کو سامان لینے کے لیے کلاس رومز میں واپس جانے کے بجائے فوری طور پر محفوظ مقام کی طرف بھیجنا ضروری تھا۔ اساتذہ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچے خطرے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
سیلاب کے بعد اسکول کی عمارت میں تباہی کے واضح آثار نظر آئے۔ کلاس رومز کی بینچوں، فرش اور دیواروں پر بھورے اور سرمئی رنگ کی موٹی کیچڑ جمی ہوئی تھی۔ اسکول کا صحن بھی گاد اور ملبے سے بھر گیا تھا۔
دیواروں پر موجود کیچڑ کے نشانات سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ سیلابی پانی کس رفتار سے اوپر پہنچا ہوگا۔ کلاس رومز میں بچوں کے بیگ، کتابیں اور دیگر سامان بھی کیچڑ میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسکول کا فرش مٹی اور گاد سے بھرا ہوا تھا اور کئی تعلیمی سامان مکمل طور پر خراب ہوگئے۔
ایک بچے کی والدہ کے لیے اپنے بیٹے کا اسکول بیگ گم ہوجانا بڑی بات نہیں تھی، کیونکہ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان کا بچہ محفوظ رہا۔ سیلاب کے دوران خاندانوں کے لیے بچوں کی حفاظت سب سے بڑی ترجیح بن گئی تھی۔
سیلاب نے صرف اسکول کی عمارت کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ بچوں کی تعلیم بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں کئی اسکول بند کردیے گئے ہیں اور بچوں کی معمول کی کلاسیں رک گئی ہیں۔ اسکولوں میں جمع کیچڑ اور ملبہ صاف کرنے، عمارتوں کی جانچ اور ضروری مرمت میں وقت لگ سکتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق نیپال کے شدید متاثرہ اضلاع میں کم از کم 69 اسکول مکمل طور پر تباہ یا نقصان زدہ ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے تقریباً 19,000 بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی اور ریسکیو ٹیمیں جیسے جیسے مزید متاثرہ علاقوں تک پہنچ رہی ہیں، نقصان کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
قدرتی آفت نے بچوں کی تعلیم کے سامنے ایک نیا بحران بھی پیدا کردیا ہے۔ جن اسکولوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے وہاں تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنا آسان نہیں ہوگا۔ کئی خاندان خود بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کو دوبارہ معمول کی تعلیم تک پہنچانا ایک اضافی چیلنج بن سکتا ہے۔
شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کو دیکھتے ہوئے نیپال کے کئی علاقوں میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تعلیمی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئیں اور کئی یونیورسٹی امتحانات بھی ملتوی کیے گئے۔
حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو مسلسل سیلاب کی وارننگ دی جارہی ہے اور انہیں نشیبی علاقوں سے نکل کر اونچی اور محفوظ جگہوں پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جارہی ہے۔ موجودہ حالات میں اسکول دوبارہ کب کھلیں گے، اس کا فیصلہ بھی مقامی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
اس قدرتی آفت کا اثر نیپال کی شمالی سرحد سے متصل چین کے کچھ علاقوں میں بھی دیکھا گیا۔ وہاں بھی شدید بارش اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں اور لوگوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تبت کے علاقے میں متعدد غیر ملکی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 788 تک پہنچ گئی تھی جبکہ 2,502 افراد لاپتہ بتائے گئے۔ چین کی جانب سے بھی سرحدی علاقوں میں ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی اطلاعات دی گئی تھیں۔ امدادی کارروائیوں کے آگے بڑھنے کے ساتھ تباہی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
دھادنگ کے اسکول کا واقعہ اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ قدرتی آفت کے دوران بروقت فیصلہ کس قدر اہم ہوسکتا ہے۔ بچوں کا لنچ بریک پر ہونا، اساتذہ کی فوری توجہ اور بچوں کو سامان چھوڑ کر محفوظ جگہ جانے کی ہدایت نے کئی خاندانوں کو ایک بڑے سانحے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اسکولوں کو دوبارہ بحال کرنے کا چیلنج بھی موجود ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کے لیے ضروری ہوگا کہ متاثرہ اسکولوں کی عمارتوں کا جائزہ لیا جائے، کیچڑ اور ملبہ صاف کیا جائے اور بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول دوبارہ فراہم کیا جائے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے اسکول بیگ، کتابیں اور دیگر سامان دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن بچوں کی زندگی واپس نہیں لائی جاسکتی۔ دھادنگ کے اسکول میں بروقت فیصلہ اسی لیے انتہائی اہم ثابت ہوا کہ بچوں کو خطرے سے پہلے محفوظ مقام تک پہنچایا جاسکا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


