اتر پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے 59,019 کروڑ روپے کا ضمنی بجٹ ایوان میں پیش کیا۔ ریاست کے وزیرِ خزانہ سریش کھنہ نے مختلف سرکاری محکموں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی پروگراموں کے لیے اضافی مالی منظوری کی تجویز پیش کی۔
حکومت کے مطابق ضمنی بجٹ کا مقصد مالی سال کے دوران سامنے آنے والی نئی ضروریات، ترقیاتی کاموں، بنیادی ڈھانچے، سماجی بہبود کی اسکیموں اور دیگر انتظامی اخراجات کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنا ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں کو مزید رفتار دینے کی کوشش کی جائے گی۔
بجٹ پیش ہونے کے بعد اسمبلی میں سیاسی سرگرمیاں بھی تیز رہیں۔ حکمران جماعت نے اسے ریاست کی ترقی اور عوامی مفاد کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے حکومت کی پالیسیوں اور ترجیحات پر سوالات اٹھانے کی تیاری ظاہر کی۔
مانسون اجلاس کے پہلے دن سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اراکین نے رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور نیٹ پیپر لیک معاملے کو لے کر اسمبلی کے باہر احتجاج کیا تھا۔ اپوزیشن نے حکومت سے ان معاملات پر جواب طلب کیا۔
پہلے دن ایوان میں سماج وادی پارٹی کے سینئر اور ملک کے معمر ترین رکنِ اسمبلی عالمبادی کے انتقال پر تعزیتی قرارداد بھی منظور کی گئی، جس کے بعد کارروائی اگلے دن تک ملتوی کر دی گئی تھی۔
منگل کو کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد وزیرِ خزانہ نے ضمنی بجٹ پیش کیا۔ بجٹ پیش کیے جانے کے کچھ دیر بعد اسمبلی کی کارروائی مختصر وقت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ آئندہ اجلاسوں میں بجٹ پر تفصیلی بحث متوقع ہے، جہاں مختلف محکموں کے لیے مختص اضافی فنڈز اور ان کے استعمال پر غور کیا جائے گا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


