الہ آباد ہائی کورٹ نے اسکول یونیفارم اور مذہبی لباس سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے پریا گ راج کے ایک نجی اسکول کی کم عمر طالبہ کی درخواست مسترد کردی، جس میں اس نے مقررہ اسکول یونیفارم کے ساتھ سر پر اسکارف یا حجاب پہننے کی اجازت مانگی تھی۔
اس معاملے کی سماعت جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا کی ڈویژن بینچ نے کی۔ درخواست گزار طالبہ پریا گ راج کے ٹیگور پبلک اسکول میں زیر تعلیم تھی اور اپنی اسکولی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسی ادارے میں گیارہویں جماعت میں داخلہ لینا چاہتی تھی۔
طالبہ کا کہنا تھا کہ اس نے پہلے بھی اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی اور اس دوران وہ سر پر اسکارف پہنتی رہی، جس پر اسکول کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ اسی بنیاد پر اس نے مقررہ یونیفارم کے ساتھ آئندہ بھی اسکارف پہننے کی اجازت مانگی تھی۔
طالبہ کی جانب سے دلیل دی گئی کہ سر ڈھانپنا اس کے مذہبی عقیدے سے متعلق ہے اور اسے اسکارف پہننے سے روکنا اس کے بنیادی حقوق سے متعلق معاملہ ہے۔ دوسری جانب اسکول انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ادارے میں تمام طلبہ کے لیے یکساں ڈریس کوڈ نافذ ہے اور کسی ایک طالبہ کو الگ سے رعایت دینے سے یونیفارم کی یکسانیت اور نظم و ضبط متاثر ہوسکتا ہے۔
عدالت نے نظم و ضبط اور مساوات پر زور دیا
ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر کسی اسکول کا ڈریس کوڈ تمام طلبہ پر یکساں طور پر نافذ ہو، منصفانہ اور غیر امتیازی ہو اور اس کا مقصد نظم و ضبط اور ادارے کی شناخت برقرار رکھنا ہو تو مقررہ یونیفارم طے کرنے اور نافذ کرنے کا بنیادی اختیار اسکول کے پاس رہتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ یونیفارم کا مقصد صرف لباس طے کرنا نہیں ہوتا۔ اس کے ذریعے طلبہ کے درمیان مساوات، نظم و ضبط، ادارے کی شناخت اور کلاس روم میں ظاہری فرق کو کم کرنے جیسے مقاصد بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔
عدالت کے مطابق مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے ایک جیسی یونیفارم نافذ کرنے سے تعلیمی ادارے میں مذہب سے غیر جانب دار ماحول برقرار رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
پہلے اسکارف پہننے سے مستقل قانونی حق نہیں بنا
طالبہ نے یہ دلیل بھی دی تھی کہ وہ پہلے کئی سال تک اسکول میں اسکارف پہنتی رہی اور اس وقت اسکول نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ عدالت نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا کہ ماضی میں اعتراض نہ کیے جانے سے اسے آئندہ بھی اسکارف پہننے کا مستقل قانونی حق حاصل ہوگیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اسکول نے اپنی مقررہ یونیفارم تبدیل نہیں کی تھی۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ طالبہ مقررہ یونیفارم کے علاوہ سر پر اسکارف بھی پہننا چاہتی تھی۔ عدالت کے مطابق اگر اسکول نے پہلے کسی مرحلے پر ڈریس کوڈ کو سختی سے نافذ نہیں کیا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل میں بھی اس اضافی لباس کو پہننے کا قانونی حق پیدا ہوگیا۔
حجاب کو لازمی مذہبی عمل ثابت کرنے پر بھی عدالت کا موقف
درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ حجاب یا سر پر اسکارف پہننا طالبہ کے مذہبی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کافی حقائق یا مستند مواد پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت کے مطابق ریکارڈ پر ایسا مناسب مواد موجود نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہو کہ کلاس روم میں اسکارف نہ پہننے سے طالبہ کے مذہبی عقیدے یا مذہب کی بنیادی نوعیت متاثر ہوگی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے مقررہ یونیفارم کے ساتھ حجاب یا اسکارف پہننے کی درخواست قبول نہیں کی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسکول میں طالبہ کے علاوہ دیگر طالبات، جن میں اسی مذہبی برادری سے تعلق رکھنے والی طالبات بھی شامل تھیں، سر پر اسکارف نہیں پہنتی تھیں۔
اسکول کے ڈریس کوڈ کو ترجیح
فیصلے میں عدالت نے تعلیمی ادارے کے نظم و ضبط اور ڈریس کوڈ نافذ کرنے کے اختیار پر بھی زور دیا۔ عدالت نے کہا کہ جب یونیفارم تمام طلبہ پر یکساں طور پر لاگو ہو رہی ہو تو کسی ایک طالب علم کو ذاتی بنیاد پر اس میں اضافی لباس شامل کرنے کی اجازت دینا یونیفارم کے بنیادی تصور کو متاثر کرسکتا ہے۔
اسکول انتظامیہ کا موقف تھا کہ ادارے میں مختلف برادریوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور سب کے لیے ایک جیسا ڈریس کوڈ نافذ ہے۔ کسی ایک طالبہ کو خصوصی رعایت دینے سے ادارے کے انتظام اور نظم و ضبط پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
درخواست مسترد
تمام دلائل اور دستیاب مواد پر غور کرنے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے طالبہ کی درخواست مسترد کردی۔ فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک منصفانہ، یکساں اور غیر امتیازی اسکول یونیفارم پر عمل کرایا جاسکتا ہے اور مقررہ یونیفارم کے ساتھ اضافی مذہبی لباس پہننے کی انفرادی درخواست کو خود بخود قانونی حق نہیں سمجھا جاسکتا۔
یہ فیصلہ اسکول یونیفارم، مذہبی لباس، طلبہ کے حقوق اور تعلیمی اداروں کے نظم و ضبط سے متعلق معاملات کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


