تازہ خبریں طرز زندگی
راہل گاندھی کے دھرنے پر بی جے پی کا حملہ،;انتشار کی سیاست& کا الزام


دہلی میں 20 جولائی کو ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی تنازع کا مرکز بن گیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کو 19 سالہ طالب علم ساحل لوچب کے ساتھ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا اور FIR درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

ساحل لوچب نے الزام عائد کیا ہے کہ 20 جولائی کے احتجاج کے دوران اسے پیلٹ سے چوٹیں آئیں۔ راہل گاندھی نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ شکایت کو باضابطہ طور پر درج کیا جائے اور مبینہ طور پر طاقت استعمال کرنے والے اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طالب علم کی شکایت پر قانونی کارروائی شروع ہونی چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق پرینکا گاندھی واڈرا بھی راہل گاندھی کے ساتھ دھرنے میں شامل ہوئیں۔

بی جے پی نے کہا ’انتشار کی سیاست‘

راہل گاندھی کے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنے پر بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے راہل گاندھی پر انتشار کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور پولیس اسٹیشن میں دھرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ کسی بھی شکایت یا الزام پر قانونی طریقہ کار کے ذریعے کارروائی ہونی چاہیے اور پولیس اسٹیشن کے باہر سیاسی احتجاج کرکے تفتیشی عمل پر دباؤ ڈالنا مناسب نہیں ہے۔

ساحل لوچب کے بارے میں راہل گاندھی کا دعویٰ

راہل گاندھی نے ساحل لوچب کی چوٹوں کو بنیاد بنا کر FIR کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طبی جانچ میں طالب علم کے جسم میں بڑی تعداد میں چھروں کی موجودگی کا پتہ چلا اور اس کی آنکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

پہلے سامنے آنے والی رپورٹس میں بھی ساحل کو پیلٹ جیسی چوٹیں لگنے اور آنکھ کو نقصان پہنچنے کی بات کہی گئی تھی۔

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر دہلی پولیس پیلٹ گن کے استعمال سے انکار کرتی ہے تو باضابطہ تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ طالب علم کو یہ چوٹیں کیسے آئیں اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پولیس افسران نے انہیں بتایا کہ اوپر سے ہدایات ہونے کی وجہ سے FIR درج نہیں کی جاسکتی۔ تاہم یہ راہل گاندھی اور کانگریس کا الزام ہے، جبکہ دہلی پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے کی تردید کی ہے۔

 20 جولائی کے احتجاج سے جڑا ہے معاملہ

یہ تنازع 20 جولائی کو جنتَر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب نکالے گئے طلبہ مارچ سے جڑا ہوا ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

اس کے بعد بعض مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بھیڑ کو قابو کرنے کے دوران پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا۔ اس الزام کے بعد معاملہ سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بن گیا۔

کچھ مظاہرین کی چوٹوں کی نوعیت بھی اس تنازع کا اہم حصہ بن گئی ہے۔ بعض آزاد رپورٹس اور ماہرین کے جائزوں میں کچھ زخموں کو پیلٹ گن سے ہونے والی چوٹوں سے مطابقت رکھنے والا بتایا گیا، جبکہ دہلی پولیس نے پیلٹ گن استعمال کرنے سے انکار کیا ہے۔

FIR کا مطالبہ تنازع کا مرکزی نکتہ

راہل گاندھی اور کانگریس کا بنیادی مطالبہ ہے کہ زخمی طالب علم کی شکایت کو باضابطہ طور پر درج کرکے تحقیقات شروع کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات ہی یہ واضح کرسکتی ہیں کہ احتجاج کے دوران کیا ہوا اور ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

دوسری جانب بی جے پی نے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے سیاسی دباؤ کی کوشش قرار دیا ہے۔

 سیاسی تنازع مزید گہرا

راہل گاندھی کے دھرنے کے بعد جولائی کے احتجاج اور مبینہ پیلٹ گن استعمال کا معاملہ ایک بار پھر قومی سیاست میں نمایاں ہوگیا ہے۔ کانگریس اسے طلبہ کے حقوق اور پولیس کی جواب دہی کا مسئلہ قرار دے رہی ہے، جبکہ بی جے پی اسے سیاسی انتشار سے تعبیر کررہی ہے۔

اب اہم بات یہ ہوگی کہ آیا شکایت پر FIR درج ہوتی ہے یا نہیں اور سرکاری تحقیقات میں مبینہ پیلٹ گن کے استعمال اور طلبہ کی چوٹوں کے بارے میں کیا نتیجہ سامنے آتا ہے۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·