دہلی میں CJP طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ پیلٹ گن کے استعمال کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی تنازع کا موضوع بن گیا ہے۔ جمعہ کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی ایک ایسے طالب علم کے ساتھ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے DCP دفتر پہنچے جس نے 20 جولائی کے احتجاج کے دوران پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
راہل گاندھی نے پولیس حکام سے ملاقات کرکے واقعے میں FIR درج کرنے اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کے ساتھ طالب علم ساحل لوچاو بھی موجود تھے۔
### FIR درج نہ ہونے پر دھرنا
رپورٹس کے مطابق شکایت فوری طور پر درج نہ ہونے کے بعد راہل گاندھی پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ مبینہ طور پر زخمی طالب علم بھی ان کے ساتھ موجود تھا۔
راہل گاندھی کا مطالبہ ہے کہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر طاقت کے استعمال اور پیلٹ سے زخمی ہونے کے معاملے کی باضابطہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
20 جولائی کے CJP احتجاج سے جڑا معاملہ
یہ پورا تنازع 20 جولائی کو جَنتَر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب نکالے گئے CJP کے طلبہ مارچ سے جڑا ہوا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ امتحانات اور تعلیم سے متعلق مسائل کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد بعض مظاہرین نے الزام لگایا کہ کارروائی کے دوران پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔
راہل گاندھی اس معاملے کو پہلے بھی اٹھا چکے ہیں اور مبینہ طور پر زخمی طلبہ کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کارروائی پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔
دہلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال سے کیا انکار
اس معاملے میں دہلی پولیس کا مؤقف مختلف ہے۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کیا تھا اور ایسی اطلاعات کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا تھا۔
تاہم بعد میں پولیس ریکارڈ اور دیگر مواد کا حوالہ دیتے ہوئے بعض رپورٹس میں احتجاج کے دوران پیلٹ والے راؤنڈ استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ایک مبینہ جنرل ڈائری اندراج میں ہجوم کو قابو کرنے کے دوران پلاسٹک پیلٹ والے راؤنڈ چلانے کا ذکر سامنے آیا۔ اس کے بعد کارروائی کی ذمہ داری اور احکامات کے حوالے سے سیاسی تنازع مزید بڑھ گیا۔
زخمی طالب علم کے طبی ریکارڈ بھی بحث میں
پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے کا دعویٰ کرنے والے طلبہ کے طبی ریکارڈ بھی اس معاملے میں اہم بن گئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں اسپتال کی دستاویزات میں پیلٹ سے متعلق زخموں کا ذکر ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
ان دعوؤں کے بعد واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور اس بات کا تعین کرنے کا مطالبہ مزید تیز ہوگیا ہے کہ احتجاج کے دوران اصل میں کون سا ہتھیار یا ہجوم کو قابو کرنے کا کون سا طریقہ استعمال کیا گیا تھا۔
راہل گاندھی نے معاملہ کیوں اٹھایا؟
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کے دوران کسی طالب علم کو مبینہ طور پر پیلٹ سے چوٹ لگی ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
کانگریس اس معاملے کو طلبہ کے حقوق اور پولیس کی جواب دہی سے جوڑ کر اٹھا رہی ہے، جبکہ دہلی پولیس پیلٹ گن استعمال کرنے کے الزام سے انکار کرچکی ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ پولیس شکایت پر کیا کارروائی کرتی ہے، FIR درج ہوتی ہے یا نہیں، اور تحقیقات کے ذریعے یہ واضح ہوپاتا ہے یا نہیں کہ احتجاج کے دوران کیا ہوا، کون سے ہتھیار استعمال ہوئے اور زخمی طلبہ کو لگنے والی چوٹوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
راہل گاندھی کے DCP دفتر پہنچنے اور دھرنے پر بیٹھنے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی طور پر اہم بن گیا ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


