*نئی دہلی:* دہلی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی انیل جھا وتس سے متعلق ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ کریاری اسمبلی حلقے سے AAP کے رکن اسمبلی انیل جھا وتس کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس کے بعد معاملہ دہلی اسمبلی تک پہنچ گیا۔
وائرل ویڈیو میں انیل جھا وتس ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے آس پاس ان کے اسمبلی حلقے کے کچھ لوگ اور خواتین موجود ہیں۔ ویڈیو میں وہ بنیان اور شارٹس پہنے ہوئے کچھ سرکاری درخواستوں پر دستخط کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کے لباس اور عوام کے درمیان سرکاری کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھائے گئے۔ اس معاملے پر دہلی اسمبلی میں بھی حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان بحث دیکھنے کو ملی۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اسمبلی میں تنقید کی
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اسمبلی میں اس ویڈیو کا ذکر کرتے ہوئے AAP کے رکن اسمبلی انیل جھا وتس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
وزیر اعلیٰ نے رکن اسمبلی کے لباس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، *"کپڑے تو پہن لیتے..."*
ریکھا گپتا نے اس پورے معاملے کو شرمناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے ایک ذمہ دار عہدے پر فائز ہوتے ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے عہدے کے وقار کے مطابق عوام کے درمیان رویہ اختیار کریں۔
وزیر اعلیٰ کے بیان کے بعد اسمبلی میں اس معاملے پر سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی۔
وائرل ویڈیو میں کیا نظر آ رہا ہے؟
وائرل ویڈیو میں انیل جھا وتس اپنے اسمبلی حلقے کے لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک کرسی پر ٹانگیں موڑ کر بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے کچھ دستاویزات موجود ہیں۔
ویڈیو میں وہ ان سرکاری درخواستوں پر دستخط کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے بنیان اور شارٹس پہن رکھے ہیں۔
ان کے اردگرد مقامی لوگ اور خواتین بھی موجود دکھائی دیتی ہیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف قسم کے ردعمل سامنے آئے اور معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بن گیا۔
عوامی نمائندے کے طرز عمل پر سوال
اس تنازع میں صرف رکن اسمبلی کے لباس کا معاملہ ہی زیر بحث نہیں آیا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ عوامی نمائندوں کو اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ سرکاری کام کرتے ہوئے کس طرح کے عوامی آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔
ارکان اسمبلی اپنے حلقے کے لوگوں سے مسلسل ملاقات کرتے ہیں، ان کی شکایات سنتے ہیں اور مختلف سرکاری خدمات سے متعلق درخواستوں پر کارروائی کرتے ہیں۔
ایسی ملاقاتوں میں عام طور پر بڑی تعداد میں لوگ موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے عوامی نمائندوں کے رویے اور سرگرمیوں پر لوگوں کی نظر رہتی ہے۔
حکمراں جماعت نے اسی پہلو کو بنیاد بنا کر رکن اسمبلی انیل جھا وتس پر تنقید کی اور کہا کہ عوامی عہدے پر موجود شخص کو اپنے طرز عمل کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔
دہلی اسمبلی میں سیاسی کشیدگی پہلے سے جاری
دہلی اسمبلی کا مانسون اجلاس پہلے ہی کئی سیاسی مسائل کے باعث بحث میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مختلف معاملات پر مسلسل بحث اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی ماحول میں AAP رکن اسمبلی سے متعلق ویڈیو سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ بھی سیاسی کشمکش کا حصہ بن گیا۔
دہلی کی سیاست میں BJP اور عام آدمی پارٹی کے درمیان پہلے سے ہی شدید سیاسی مقابلہ جاری ہے۔ ایسے میں کسی رکن اسمبلی سے متعلق متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس کا اثر اسمبلی کی کارروائی میں بھی نظر آیا۔
سوشل میڈیا پر بھی ویڈیو کی بحث
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بحث شروع ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے رکن اسمبلی کے لباس پر سوال اٹھایا، جبکہ کچھ لوگوں نے اسے سیاسی تنازع بنانے پر سوالات کیے۔
تاہم ویڈیو کے سامنے آنے کے مکمل حالات اور اس کے پورے پس منظر کے بارے میں دستیاب معلومات محدود ہیں۔ صرف ایک وائرل ویڈیو کی بنیاد پر کسی شخص کی نیت یا واقعے کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
فی الحال یہ معاملہ دہلی کی سیاست میں ایک نئے تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اسمبلی کے اندر اس معاملے پر AAP رکن اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انیل جھا وتس کا معاملہ سیاسی بحث کا حصہ
کریاری کے رکن اسمبلی انیل جھا وتس سے متعلق یہ معاملہ اب صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا۔ اسمبلی میں معاملہ اٹھنے کے بعد حکمراں جماعت اور عام آدمی پارٹی کے درمیان سیاسی بیان بازی مزید تیز ہوگئی ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ عوامی نمائندوں کو عوامی زندگی میں کس طرح کے آداب اور طرز عمل کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ سرکاری کام سے متعلق دستاویزات پر کارروائی کر رہے ہوں۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


