تازہ خبریں طرز زندگی
چونی تنازع میں مایاوتی کی انٹری، اکھلیش پر برسیں، جٹ برادری سے معافی کا مطالبہ


اتر پردیش کی سیاست میں سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کے درمیان ’چونی سے روپیہ‘ والے بیان پر جاری تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔ اب بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اس معاملے میں اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا ہے۔

مایاوتی نے اکھلیش یادو کے اس بیان پر سخت اعتراض کیا جس میں انہوں نے اپنی سابق اتحادی جماعت آر ایل ڈی کے حوالے سے کہا تھا کہ ’ہم نے ان کو چونی سے روپیہ بنا دیا‘۔ مایاوتی نے اسے مکمل طور پر نامناسب، ناشائستہ اور انتہائی شرمناک بیان قرار دیا۔

 مایاوتی نے معافی کا مطالبہ کیا

مایاوتی نے کہا کہ اکھلیش یادو کو راشٹریہ لوک دل اور اس کے سربراہ جینت چودھری سے معافی مانگنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کے خاندان کی مبینہ توہین کا حوالہ دیتے ہوئے پوری جٹ برادری سے بھی معافی مانگنے کی بات کہی۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری شروع ہوچکی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اپنے سماجی اور انتخابی اتحاد کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔

’اتحادیوں سے کام نکلنے کے بعد رنگ بدلتی ہے س

مایاوتی نے اپنے حملے کو صرف ’چونی‘ والے بیان تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ اتحاد کی سیاست میں ضرورت کے وقت اتحادیوں کا ساتھ لیتی ہے اور مقصد پورا ہونے کے بعد اپنا رویہ بدل لیتی ہے۔

مایاوتی اس سے پہلے بھی سماج وادی پارٹی پر اسی طرح کے الزامات لگا چکی ہیں۔ رواں ماہ انہوں نے سکو ’گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی پارٹی‘ قرار دیتے ہوئے عوام سے اس کی مبینہ تنگ اور ذات پات پر مبنی سیاست سے محتاط رہنے کی اپیل کی تھی۔

 تنازع شروع کیسے ہوا؟

یہ تنازع اکھلیش یادو کے ایک بیان کے بعد شروع ہوا۔ انہوں نے اتحاد کی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نے چونی کو روپیہ بنا دیا، پھر بھی چھوڑ کر چلے گئے۔‘ راشٹریہ لوک دل نے اس بیان کو اپنے سربراہ جینت چودھری پر طنز کے طور پر لیا۔

اس کے بعد جینت چودھری نے بھی اکھلیش یادو پر جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تکبر کو قریب سے دیکھ چکے ہیں اور ایسا رویہ صرف زوال کی طرف لے جاتا ہے۔

دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما شیو پال یادو نے اکھلیش یادو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب نکالا گیا اور کسی کی جان بوجھ کر توہین کرنے کی نیت نہیں تھی۔

 مایاوتی کے بیان کے سیاسی معنی

مایاوتی کی جانب سے جینت چودھری کی کھلی حمایت کو اتر پردیش کی سیاست میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ مغربی اتر پردیش میں جٹ ووٹر ایک اہم سیاسی طاقت ہیں اور راشٹریہ لوک دل کی اس خطے میں طویل عرصے سے مضبوط موجودگی رہی ہے۔ ایسے میں مایاوتی کا اس معاملے میں کھل کر سامنے آنا آئندہ انتخابات کے سیاسی حساب کتاب پر اثر ڈال سکتا ہے۔

2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اتر پردیش میں سیاسی اتحاد اور سماجی مساوات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ اسی لیے ’چونی‘ کا یہ تنازع اب صرف دو رہنماؤں کے درمیان بیان بازی نہیں رہا بلکہ وسیع سیاسی مقابلے کا حصہ بنتا جارہا ہے۔

فی الحال اکھلیش یادو، جینت چودھری اور مایاوتی کے بیانات نے اتر پردیش کی سیاست میں نئی گرمی پیدا کردی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ تنازع انتخابی مہم کا مستقل موضوع بنتا ہے یا صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رہتا ہے، اس پر سب کی نظر ہوگی۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·