تازہ خبریں طرز زندگی
رانچی میں اسمبلی کے قریب طلبہ کا دھرنا، کشیدگی برقرار


رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے تقرری امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے الزامات کے خلاف طلبہ کی تحریک پیر کے روز مزید تیز ہوگئی۔ اسمبلی گھیراؤ کے لیے مارچ کرنے والے بڑی تعداد میں طلبہ اب جھارکھنڈ اسمبلی کے قریب پہنچ کر دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔

احتجاج کرنے والے طلبہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں اور اپنی اہم مانگوں پر قائم ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک تقرری امتحانات سے متعلق ان کے بنیادی مطالبات پر واضح فیصلہ نہیں کیا جاتا، تحریک ختم نہیں کی جائے گی۔

مظاہرین کی اہم مانگوں میں جے ایس ایس سی سی جی ایل امتحان منسوخ کرنا اور تقرری امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی سے جانچ کرانا شامل ہے۔

اسمبلی گھیراؤ کے پیش نظر رانچی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسمبلی کے اطراف کئی سطحوں پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

 اسمبلی کے قریب طلبہ کا دھرنا

اسمبلی کی جانب بڑھتے ہوئے کئی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد طلبہ کا ایک بڑا گروپ اسمبلی کے قریب پہنچ گیا اور وہیں دھرنے پر بیٹھ گیا۔

مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کچھ طلبہ کھیتوں اور متبادل راستوں سے ہوتے ہوئے بھی اسمبلی کی سمت آگے بڑھتے ہوئے نظر آئے۔ پولیس کی مختلف ٹیمیں کئی مقامات پر تعینات رہیں تاکہ مظاہرین کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے اور انہیں ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کا مقصد تقرری امتحانات کے عمل میں شفافیت اور غیر جانب داری کو یقینی بنانا ہے۔

آخری بیریکیڈ کے قریب کشیدگی

مظاہرین کے آخری بیریکیڈ کے قریب پہنچنے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ پولیس نے طلبہ کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی، جبکہ انتظامی افسران مظاہرین سے مسلسل بات چیت کرتے رہے۔

پولیس کے مطابق بات چیت کے بعد طلبہ کچھ دیر کے لیے رکنے پر رضامند ہوئے تھے۔ تاہم، جب بعض مظاہرین نے آخری بیریکیڈ کو توڑنے کی کوشش کی تو انہیں روکنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کیا گیا۔

اسی دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس پر جوتے اور چپل پھینکے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ اس کے بعد پتھراؤ کی صورتحال پیدا ہوئی، جس میں ایک پولیس اہلکار کے سر پر چوٹ لگنے کی اطلاع ہے۔

واقعے کے بعد موقع پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی اور حکام نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوششیں تیز کردیں۔

جے پی ایس سی کے سابق چیئرمین گرفتار

طلبہ کے اسمبلی مارچ کے درمیان تفتیشی حکام نے جے پی ایس سی کے سابق چیئرمین ایل کھینگتے کو گرفتار کرلیا۔

دستیاب معلومات کے مطابق انہیں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا اور تفتیشی ادارے کے تھانے لے جایا گیا۔ قانونی کارروائی کے تحت انہیں عدالت میں پیش کیے جانے کی تیاری کی گئی۔

یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی جب رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی تقرری امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کی بڑی تحریک جاری ہے۔

گرفتاری سے متعلق مزید قانونی کارروائی کے بعد معاملے کی اگلی صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔

بی جے پی نے بھی طلبہ کے حق میں احتجاج کیا

طلبہ کی تحریک کے درمیان بی جے پی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی ان کے حق میں احتجاج کیا۔

ریاستی بی جے پی صدر آدتیہ ساہو نے کہا کہ پارٹی نوجوانوں کے حقوق اور انصاف کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور انصاف ملنے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

بی جے پی کارکنوں نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے قریب بھی احتجاج کیا اور جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کے دوران وزیر اعلیٰ سے متعلق سیاسی مطالبات بھی اٹھائے گئے اور حکومت پر نوجوانوں کے مسائل کو مناسب طریقے سے حل نہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

 جے اے کے ایم رکن اسمبلی نے طلبہ کی آواز اٹھانے کا وعدہ کیا

اسمبلی کے سامنے بیریکیڈنگ کے قریب جے اے کے ایم کے رکن اسمبلی جے رام کمار مہتو بھی پہنچے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی آواز کو دبنے نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو اسمبلی میں اٹھایا جائے گا اور تقرری امتحانات سے متعلق معاملات پر حکومت سے جواب طلب کیا جائے گا۔

ان کے مطابق نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملے پر حکومت کو سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔

 دیویندر ناتھ مہتو نے بیریکیڈنگ پر سوال اٹھائے

طلبہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو نے اسمبلی کے اطراف کی گئی سخت سکیورٹی اور بیریکیڈنگ پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ طلبہ کی تحریک میں شامل ہونے سے خود کو روک نہیں سکے۔ انہوں نے تیز دھار اور خطرناک بیریکیڈنگ پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے لیے اس طرح کی سخت رکاوٹیں کیوں لگائی گئی ہیں۔

دیویندر ناتھ مہتو نے کہا کہ مظاہرین طلبہ ہیں اور وہ اپنے حقوق اور تقرری امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

طلبہ نے پولیس کی سختی پر سوال اٹھائے

اسمبلی مارچ میں شامل بعض طلبہ نے رانچی پہنچنے سے قبل پولیس کی جانب سے کی جانے والی سخت چیکنگ پر بھی سوال اٹھائے۔

ایک احتجاجی طالب علم نے دعویٰ کیا کہ رانچی پہنچنے سے پہلے طلبہ کو کئی مقامات پر روکا گیا۔ اس کے مطابق بسوں کی جانچ کی گئی اور موٹر سائیکلوں کی بھی سخت تلاشی لی گئی۔

طالب علم نے الزام لگایا کہ ان اقدامات کا مقصد طلبہ کو احتجاجی مقام تک پہنچنے سے روکنا تھا۔

اس نے کہا کہ جب تک سی بی آئی جانچ کا حکم نہیں دیا جاتا، طلبہ یہاں سے واپس نہیں جائیں گے۔

ایک اور طالب علم نے دعویٰ کیا کہ ان کی گاڑی کا نمبر نوٹ کیا گیا۔ اس نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا احتجاج کرنے والے طلبہ دہشت گرد ہیں اور کیا وہ ریاست کے شہری نہیں ہیں۔

طالب علم نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نوجوانوں سے دوری اختیار کر رہی ہے اور اسے اس پورے معاملے پر جواب دینا ہوگا۔

طلبہ کے اہم مطالبات کیا ہیں؟

طلبہ کا سب سے اہم مطالبہ جے ایس ایس سی سی جی ایل امتحان منسوخ کرنے کا ہے۔ اس کے علاوہ وہ تقرری امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے الزامات کی سی بی آئی سے جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ تقرری امتحانات کے نظام میں شفافیت اور غیر جانب داری ہونی چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں کے الزامات کی آزادانہ جانچ کی جائے اور اگر کوئی قصوروار پایا جائے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

حکومت اور طلبہ کے درمیان بات چیت کے باوجود احتجاج جاری

حکومت اور طلبہ کے نمائندوں کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوچکی ہے۔ حکومت کی جانب سے بعض معاملات پر تجاویز بھی دی گئی ہیں، لیکن طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے تمام اہم مطالبات پر ابھی تک مکمل اتفاق نہیں ہوا۔

اسی وجہ سے طلبہ نے اسمبلی گھیراؤ اور دھرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

طلبہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ صرف زبانی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی۔ اہم فیصلوں اور حکومت کی یقین دہانیوں کو تحریری شکل میں طلبہ کے سامنے لایا جانا چاہیے، اس کے بعد ہی تحریک کے مستقبل پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

سمبلی کے اطراف سکیورٹی سخت

اسمبلی گھیراؤ کے پیش نظر جھارکھنڈ اسمبلی کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کئی سطحوں پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور اہم مقامات پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

پولیس حکام مظاہرین سے مسلسل اپیل کر رہے ہیں کہ وہ پرامن رہیں اور سکیورٹی رکاوٹوں کو عبور نہ کریں۔

دوسری جانب طلبہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور اسمبلی کے قریب دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فی الحال رانچی میں صورتحال کشیدہ ہے۔ طلبہ دھرنے اور نعرے بازی کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھا رہے ہیں، جبکہ پولیس اور انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تحریک کا اگلا مرحلہ حکومت اور طلبہ کے درمیان مزید بات چیت اور طلبہ کو دی جانے والی تحریری یقین دہانیوں پر منحصر ہوسکتا ہے۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·