*کھٹمنڈو:* نیپال میں بدھ کی صبح اچانک آنے والے شدید سیلاب نے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی۔ تبت کی سرحد کے قریب واقع *رسوا، دھادنگ اور نواکوٹ* اضلاع سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
تیز پانی اور ملبے کے بہاؤ سے کئی گاؤں، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی آفت کے بعد امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔
اب تک 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق* ہوچکی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ متاثرہ علاقوں تک رسائی ہونے کے بعد ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
105 بھارتی شہریوں سمیت سیکڑوں افراد لاپتہ
سیلاب کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق *105 بھارتی شہریوں سمیت سیکڑوں افراد لاپتہ* بتائے جارہے ہیں۔
کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سڑکوں اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو بعض علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
لاپتہ افراد میں نیپالی شہریوں کے علاوہ غیر ملکی شہری اور سیاح بھی شامل بتائے جارہے ہیں۔ حکام متاثرہ افراد کی شناخت اور ان کے اہل خانہ تک معلومات پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رسوا میں سب سے زیادہ نقصان
تبت کی سرحد کے قریب واقع رسوا ضلع میں سیلاب کا اثر خاص طور پر شدید بتایا جارہا ہے۔ سیلابی پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ سے کئی سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث آمدورفت میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
کچھ ہائیڈرو پاور منصوبوں کے بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نیپال کے پہاڑی علاقوں میں کئی پن بجلی منصوبے دریاؤں کے قریب قائم ہیں، اس لیے پانی کی سطح اچانک بڑھنے سے ان کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
دھادنگ اور نواکوٹ میں بھی حالات خراب
رسوا کے علاوہ *دھادنگ اور نواکوٹ* اضلاع میں بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصان ہوا ہے۔
نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کی وجہ سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
384 سے زیادہ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع
ابتدائی معلومات کے مطابق رسوا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں *384 سے زیادہ افراد کے لاپتہ ہونے* کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تاہم یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں، کیونکہ کئی متاثرہ علاقوں سے ابھی مکمل معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ امدادی ٹیموں کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے بعد لاپتہ افراد اور نقصان کی اصل صورتحال واضح ہونے کی امید ہے۔
بہار اور اتر پردیش میں بھی الرٹ
نیپال میں سیلاب کی صورتحال کے باعث ہندوستان کی ریاستوں *بہار اور اتر پردیش* میں بھی حکام کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
نیپال سے نکلنے والے کئی دریا ہندوستان کے میدانی علاقوں، خاص طور پر بہار اور اتر پردیش سے گزرتے ہیں۔ نیپال میں پانی کی سطح اچانک بڑھنے کی صورت میں ہندوستان کے سرحدی علاقوں میں بھی سیلاب کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
حکام کو دریاؤں کے پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھنے اور حساس علاقوں میں ضروری احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سرحدی علاقوں میں تشویش بڑھی
نیپال میں آنے والے سیلاب کے بعد نیپال-ہندوستان سرحد کے قریب رہنے والے لوگوں میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔
انتظامیہ دریاؤں کے پانی کی سطح اور موسم کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو دریاؤں اور تیز بہاؤ والے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
امدادی کارروائیاں جاری
نیپال میں پولیس، سیکیورٹی ادارے اور امدادی ٹیمیں مسلسل ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
امدادی کارروائیوں کی بنیادی ترجیح لاپتہ افراد کو تلاش کرنا، خطرناک علاقوں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اور متاثرہ خاندانوں کو ضروری امداد فراہم کرنا ہے۔
خراب موسم، پہاڑی راستوں اور سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو کئی علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ
اب تک 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے، لیکن بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔ اسی وجہ سے حکام کو خدشہ ہے کہ ریسکیو آپریشن آگے بڑھنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صورتحال سے متعلق صرف سرکاری معلومات پر بھروسہ کریں۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


