سپریم کورٹ نے جنسی جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کو زیادہ حساس، منصفانہ اور متاثرہ فرد کے حقوق کے مطابق بنانے کے مقصد سے ایک ماہر کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں ججوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فیصلے لکھتے وقت یا عدالتی کارروائی کے دوران ایسی زبان استعمال کریں جو متاثرہ فرد کی عزت، وقار اور آئینی حقوق کا احترام کرے۔
یہ رپورٹ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس انیرُدھ بوس کی سربراہی میں قائم ماہر کمیٹی نے تیار کی ہے۔ کمیٹی نے ملک بھر کی عدالتی اکیڈمیوں کے تعاون سے ٹرائل عدالتوں کے 125 فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ رپورٹ میں پایا گیا کہ کئی عدالتی فیصلوں میں اب بھی ایسی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں جو سماجی تعصبات اور فرسودہ خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ عدالتیں "عصمت دری سے عزت لٹ جانا"، "بے بس عورت"، "پاکیزگی کھو دینا"، "مظلوم بچی"، "ہوس کا شکار"، "زندگی تباہ ہو گئی" اور اسی نوعیت کے دیگر جملوں سے گریز کریں۔ رپورٹ کے مطابق ایسی زبان متاثرہ افراد کو دوبارہ ذہنی صدمے سے دوچار کر سکتی ہے اور انصاف کے بجائے معاشرتی تعصب کو فروغ دیتی ہے۔
اس کے بجائے "متاثرہ فرد"، "سروائیور"، "شکایت کنندہ"، "جنسی حملہ"، "جنسی تشدد" اور "جسمانی خودمختاری" جیسے غیر جانبدار اور قانونی طور پر درست الفاظ استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد رضامندی، انسانی وقار، جسمانی خودمختاری اور آئینی حقوق ہونے چاہئیں، نہ کہ عزت، شرم یا پاکیزگی جیسے سماجی تصورات۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ بعض مقدمات میں متاثرہ خواتین سے ان کے لباس، ماضی کی نجی زندگی یا کردار سے متعلق غیر ضروری سوالات کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ ایسے سوالات کو عدالت میں برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور ججوں کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔
ماہر کمیٹی نے عدالتوں کو متاثرہ افراد کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ اس میں بیٹھنے کے لیے کرسی، پانی، رازداری، غیر ضروری افراد کو عدالت سے باہر رکھنا، ضرورت پڑنے پر بند کمرے میں سماعت، گواہوں کا تحفظ، قانونی امداد اور مقدمے سے پہلے نفسیاتی مشاورت جیسی سہولیات شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالتوں کو متاثرہ فرد کے کردار پر سوال اٹھانے کے بجائے ملزم کے رویے اور دستیاب شواہد پر توجہ دینی چاہیے۔ خاص طور پر بے ہوش یا کمزور حالت میں موجود خواتین سے متعلق مقدمات میں عدالتی سوچ کو فرسودہ تصورات سے آزاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ انصاف صرف فیصلہ سنانے کا نام نہیں بلکہ عدالتی عمل بھی متاثرہ فرد کے لیے باوقار اور محفوظ ہونا چاہیے۔ اگر کسی متاثرہ شخص یا حساس گواہ کو تحفظ کی ضرورت ہو تو عدالت کو درخواست کا انتظار کیے بغیر مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
یہ ماہر کمیٹی سپریم کورٹ کے 10 فروری 2026 کے حکم کے بعد تشکیل دی گئی تھی، جس میں جنسی جرائم اور حساس مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں کے لیے رہنما اصول تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ نئی رپورٹ مستقبل میں ایسے مقدمات میں عدالتی زبان اور رویے کے لیے ایک اہم رہنما دستاویز سمجھی جا رہی ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


