تازہ خبریں طرز زندگی
جنتر منتر پر 30 ہزار کا ہجوم، لاٹھی چارج پر دہلی پولیس کا جواب


نئی دہلی۔ دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی اور فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کا معاملہ اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ دہلی پولیس نے عدالت میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے اور بیریکیڈنگ توڑے جانے کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔

دہلی پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران تقریباً 30 ہزار افراد کا ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ہجوم میں موجود کچھ مظاہرین نے مقررہ بیریکیڈنگ توڑ دی اور اس کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ پولیس کے مطابق مسلسل بڑھتے ہوئے ہجوم کے درمیان پولیس اہلکاروں کے سامنے امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کو روکنے کا چیلنج پیدا ہوگیا تھا۔

پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے گئے۔ پولیس کے مطابق جب مظاہرین نے مبینہ طور پر بیریکیڈنگ عبور کرنا شروع کی اور صورتحال پرتشدد ہونے لگی تو طاقت کا استعمال کیا گیا۔ اسی دوران لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کیوں استعمال کی گئی؟

احتجاج کے دوران فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال نے بھی کئی سوالات پیدا کیے تھے۔ احتجاجی مقام پر کیمروں اور دیگر تکنیکی ذرائع کے ذریعے لوگوں کی شناخت کیے جانے کے معاملے پر شہری آزادی اور رازداری سے متعلق بحث شروع ہوئی تھی۔

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسے سکیورٹی اور امن و امان سے متعلق مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ پولیس نے عدالت کے سامنے یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی کہ احتجاج کے دوران ریکارڈ کی گئی ویڈیو اور دیگر تکنیکی معلومات کس مقصد کے لیے حاصل کی گئیں اور ان کا استعمال کن حالات میں کیا گیا۔

فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی میں عام طور پر کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر یا ویڈیو میں موجود چہروں کا تکنیکی تجزیہ کرکے کسی شخص کی شناخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سکیورٹی ایجنسیاں اسے مشتبہ افراد کی شناخت یا کسی واقعے کی تحقیقات میں استعمال کرسکتی ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں کی رازداری، ذاتی معلومات اور شہری آزادیوں سے متعلق اہم سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

طلبہ کے احتجاج کے دوران کیا ہوا؟

جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج مختلف مطالبات کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔ احتجاج کے دوران لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو مقررہ علاقے تک محدود رکھنے اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے بیریکیڈنگ کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک موقع پر بڑی تعداد میں مظاہرین بیریکیڈنگ کے قریب پہنچ گئے اور اسے عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ پولیس کے مطابق ہجوم کو پیچھے ہٹانے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن حالات مزید خراب ہونے کے بعد لاٹھی چارج کرنا پڑا۔

پولیس کی کارروائی پر مظاہرین کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خاص طور پر لاٹھی چارج، طاقت کے استعمال اور مظاہرین کی شناخت کے لیے فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کو لے کر بحث ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ میں دہلی پولیس نے کیا کہا؟

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں کہا کہ اس کی کارروائی کا مقصد محض پرامن احتجاج کو روکنا نہیں تھا بلکہ احتجاج کے مقام پر پیدا ہونے والی مبینہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں کرنا تھا۔

پولیس نے ہجوم کی بڑی تعداد، بیریکیڈنگ توڑے جانے اور مبینہ تشدد کو طاقت کے استعمال کی بنیادی وجوہات کے طور پر عدالت کے سامنے رکھا۔ پولیس کا موقف ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں موجود ہجوم مقررہ علاقے سے باہر نکل جاتا تو عوامی سکیورٹی کے لیے سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی تھی۔

اب عدالت کے سامنے یہ اہم سوال بھی ہے کہ پولیس کی جانب سے کیا گیا طاقت کا استعمال حالات کے مطابق اور متناسب تھا یا نہیں۔ اس کے علاوہ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران شہریوں کی رازداری اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

 یہ معاملہ اہم کیوں ہے؟

یہ معاملہ صرف ایک احتجاج کے دوران پولیس کارروائی تک محدود نہیں ہے۔ اس میں احتجاج کے حق، امن و امان برقرار رکھنے کی پولیس کی ذمہ داری اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے درمیان توازن کا سوال بھی شامل ہے۔

پرامن احتجاج جمہوری عمل کا اہم حصہ ہے، جبکہ عوامی سکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ ایسے معاملات میں پولیس کی کارروائی کی قانونی حیثیت اور طاقت کے استعمال کی ضرورت حالات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔

فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق یہ سوال بھی اہم ہے کہ شہریوں کا ڈیٹا کس مقصد کے لیے جمع کیا گیا، اسے کتنے عرصے تک محفوظ رکھا گیا اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات موجود تھے۔

فی الحال دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنا موقف پیش کردیا ہے۔ آئندہ عدالتی کارروائی میں جنتر منتر احتجاج کے دوران پولیس ایکشن، فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال اور شہری حقوق سے متعلق مزید وضاحت سامنے آسکتی ہے۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·