تازہ خبریں طرز زندگی
لال قلعہ دھماکہ: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں AQIS سے مبینہ تعلق کا انکشاف


دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب نومبر 2025 میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس حملے کے لیے لقاعدہ برصغیر ہند، یعنی AQIS کو ذمہ دار قرار دیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں AQIS کی موجودہ سرگرمیوں اور تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تنظیم نے اپنے روایتی مرکزی ڈھانچے سے ہٹ کر ایک غیر مرکزی نیٹ ورک کی شکل اختیار کی ہے، جس میں مختلف علاقوں میں چھوٹے گروپس اور سیلز کے ذریعے سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دہلی دھماکے کی تحقیقات

نومبر 2025 میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے نے دہلی کی سکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے تھے۔ دھماکہ ایک گاڑی سے متعلق بتایا گیا تھا، جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

واقعے کے بعد بھارتی حکام نے اسے ممکنہ دہشت گردانہ حملے کے طور پر دیکھتے ہوئے تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کے دوران دھماکے میں ملوث افراد، ان کے رابطوں، ممکنہ مالی ذرائع اور بڑے دہشت گرد نیٹ ورکس سے تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

بعد میں *نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی NIA* نے اس معاملے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لیں۔

تفتیش کاروں نے مبینہ طور پر ایسے نیٹ ورک کا جائزہ لیا جس میں شدت پسندانہ نظریات سے متاثر افراد اور AQIS سے مبینہ طور پر وابستہ مشتبہ عناصر کے روابط کی جانچ کی گئی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں AQIS کا ذکر سامنے آنے کے بعد اس معاملے کو ایک وسیع تر بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورک کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

AQIS کے غیر مرکزی نیٹ ورک پر تشویش

رپورٹ میں AQIS کے بدلتے ہوئے تنظیمی ڈھانچے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق AQIS اب ایک ایسے غیر مرکزی نیٹ ورک کی شکل اختیار کر رہا ہے جو مختلف علاقوں میں چھوٹے سیلز کے ذریعے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورک سکیورٹی اداروں کے لیے زیادہ پیچیدہ چیلنج پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کی سرگرمیاں ایک ہی مرکزی قیادت یا مقام تک محدود نہیں ہوتیں۔

رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے مختلف علاقوں میں تنظیم کی موجودگی اور روابط کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

فغانستان اور بنگلہ دیش میں سرگرمیاں

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں AQIS سے منسلک افراد کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تنظیم سے وابستہ بعض افراد کابل میں موجود ہو سکتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کے لیے افغان شناختی دستاویزات کا استعمال کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ بنگلہ دیش میں AQIS کی سرگرمیوں اور اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے کی مبینہ کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تنظیم جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں اپنے روابط برقرار رکھنے یا نئے نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔

دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات

رپورٹ میں القاعدہ اور داعش سے منسلک تنظیموں کی دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض دہشت گرد تنظیمیں کیمیائی اور حیاتیاتی مواد حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ عالمی سکیورٹی ادارے اس طرح کی کوششوں کو ایک سنگین خطرہ سمجھتے ہیں۔

رپورٹ میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ایسی کرنسیوں کو مبینہ طور پر فنڈز جمع کرنے اور انہیں مختلف مقامات تک منتقل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

نگرانی کرنے والی ٹیم نے تجویز دی ہے کہ ایسے کرپٹو کرنسی ایڈریسز کو بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں کے دائرے میں شامل کرنے پر غور کیا جائے جن کا تعلق پابندیوں کا سامنا کرنے والی دہشت گرد تنظیموں سے ثابت ہو۔

حقیقات کے لیے رپورٹ کی اہمیت

لال قلعہ دھماکے کے حوالے سے AQIS کا ذکر تحقیقات کے لیے اہم سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی دہشت گردانہ واقعے میں حتمی قانونی ذمہ داری کا تعین تفتیشی شواہد اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات سے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اور مقامی مشتبہ افراد کے ساتھ ساتھ ان کے ممکنہ بین الاقوامی روابط، مالی ذرائع اور دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلقات پر بھی مزید توجہ دی جا سکتی ہے۔

نومبر 2025 کا لال قلعہ دھماکہ دہلی میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگین واقعہ تھا۔ اب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں AQIS کے مبینہ تعلق کا ذکر سامنے آنے کے بعد اس واقعے کے ممکنہ بین الاقوامی روابط اور جنوبی ایشیا میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس پر توجہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·