آن لائن مشہور اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی سابق مینیجر دیشا سالیان کی موت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے دیشا سالیان کی موت کے حالات کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو، یعنی CBI، کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کا یہ حکم دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ درخواست میں ان کی بیٹی کی موت کے حالات پر سوالات اٹھاتے ہوئے معاملے کی ازسرنو اور تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عدالت کی ہدایات کے مطابق CBI ضروری قانونی کارروائی شروع کرے گی، جس میں FIR درج کرنا اور دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان کا بیان ریکارڈ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ممبئی پولیس کو کیس سے متعلق تمام اہم دستاویزات، ریکارڈ اور دیگر مواد CBI کے حوالے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت نے تحقیقات کے بارے میں کیا کہا؟
ہائی کورٹ نے تحقیقات کے طریقہ کار سے متعلق اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض الزامات یا شک کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو ملزم نہیں سمجھا جائے گا۔ کسی شخص کے خلاف کارروائی اسی وقت کی جائے گی جب تحقیقات کے دوران اس کے خلاف قابلِ اعتماد مواد یا شواہد سامنے آئیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر CBI کی تحقیقات میں کسی جرم کے شواہد نہیں ملتے تو ایجنسی متعلقہ عدالت میں اپنی سمری رپورٹ پیش کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ستیش سالیان کو قانونی طریقے سے اس رپورٹ کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
دیشا سالیان کی موت کب ہوئی تھی؟
دیشا سالیان کی موت 8 جون 2020 کو ممبئی کے مالاد علاقے میں ہوئی تھی۔ وہ ایک رہائشی عمارت کی 14ویں منزل سے گر گئی تھیں۔ واقعے کے بعد ممبئی پولیس نے حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا تھا اور ابتدائی تحقیقات میں اس واقعے کو خودکشی کے امکان سے جوڑا گیا تھا۔
بعد میں دیشا سالیان کی موت کے حالات کو لے کر کئی سوالات اور دعوے سامنے آتے رہے۔ اس معاملے نے مزید توجہ اس وقت حاصل کی جب کچھ عرصے بعد اداکار سوشانت سنگھ راجپوت بھی انتقال کر گئے۔ دونوں واقعات کے درمیان تعلق کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے، تاہم ایسے دعووں اور ثابت شدہ حقائق میں فرق کرنا ضروری ہے۔
اب CBI کو تحقیقات سونپے جانے کے بعد معاملے کے مختلف پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
والد نے کیا الزامات لگائے تھے؟
دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان نے اپنی بیٹی کی موت کے حالات پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ معاملے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے آزادانہ اور تفصیلی تحقیقات ضروری ہیں۔
درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے سنگین الزامات عدالت کے سامنے رکھے گئے۔ ان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ دیشا کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اور بااثر افراد کو بچانے کے لیے شواہد کو چھپانے یا متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
تاہم یہ تمام باتیں درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دعوے ہیں۔ انہیں ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اب ان دعوؤں کی حقیقت اور واقعے کے اصل حالات کا تعین تحقیقات کے دوران شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
دتیہ ٹھاکرے کے حوالے سے بھی مطالبہ
ستیش سالیان کی درخواست میں شیوسینا (UBT) رہنما آدتیہ ٹھاکرے کے خلاف بھی FIR درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ مطالبہ درخواست میں کیے گئے دعووں اور الزامات کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
اب CBI کے ذریعے تحقیقات آگے بڑھنے کے بعد کیس سے متعلق مختلف پہلوؤں، سابقہ ریکارڈ، بیانات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی شخص کے خلاف الزام ثابت ہونے کا فیصلہ صرف تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر ہی ہوگا۔
ممبئی پولیس کو تمام ریکارڈ دینا ہوگا
ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ممبئی پولیس کو دیشا سالیان کی موت سے متعلق تمام اہم ریکارڈ CBI کے حوالے کرنے ہوں گے۔ ان میں ابتدائی تحقیقات کے دوران جمع کیا گیا مواد اور کیس سے متعلق دیگر دستاویزات شامل ہو سکتی ہیں۔
CBI پہلے کی تحقیقات کا بھی جائزہ لے سکتی ہے اور دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر مواد کی بنیاد پر معاملے کی جانچ کر سکتی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی دعوے یا الزام کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اب اس معاملے میں CBI کی تحقیقات اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ ایجنسی کو عدالت کی ہدایات کے مطابق FIR درج کرنے، ستیش سالیان کا بیان ریکارڈ کرنے اور ممبئی پولیس سے حاصل ہونے والے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی کارروائی آگے بڑھانی ہوگی۔
اگر تحقیقات کے دوران کسی جرم کے کافی شواہد ملتے ہیں تو قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر کسی جرم کے شواہد سامنے نہیں آتے تو CBI متعلقہ عدالت میں سمری رپورٹ پیش کر سکتی ہے۔
اس طرح دیشا سالیان کی موت کا معاملہ ایک مرتبہ پھر نئی تحقیقات کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اب CBI کی تحقیقات اور اس سے سامنے آنے والے شواہد اس کیس کی اگلی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


