تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
جنتر منتر احتجاج پر سپریم کورٹ نے تحمل اختیار کرنے کی ہدایت دی


سپریم کورٹ نے *'سنسد چلو مارچ'* اور جنتر منتر احتجاج سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ نوجوانوں کے ساتھ بات چیت، مشاورت اور تحمل کا مظاہرہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر احتجاج کے دوران کچھ عناصر قانون شکنی کرتے ہیں، تب بھی ریاست کا پہلا مقصد حالات کو پرامن طریقے سے سنبھالنا ہونا چاہیے۔

یہ معاملہ *چیف جسٹس سوریا کانت، **جسٹس جوی مالیا باگچی* اور *جسٹس وی موہن* پر مشتمل بنچ کے سامنے زیر سماعت آیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر چند گمراہ افراد پتھراؤ بھی کریں تو اس کی بنیاد پر تمام نوجوانوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔

درخواست ایک ریٹائرڈ فضائیہ افسر کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں 20 جولائی کو منعقد ہونے والے *سنسد چلو مارچ* کے منتظمین پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ احتجاج کے بعد بھی بعض افراد مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر قومی دارالحکومت کے حساس علاقوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات پر سخت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں دیگر ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔

اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہر معاملے کا فیصلہ اس کے حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ چند افراد کی کارروائی کی بنیاد پر پورے احتجاج کو نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ زیادہ تر نوجوان اپنی آواز جمہوری انداز میں اٹھانا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ نوجوانوں کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے ان کی بات سننی چاہیے، انہیں مناسب مشورہ دینا چاہیے اور ان کے خدشات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عدالت کے مطابق یہی طریقہ معاشرتی کشیدگی کو کم کرنے اور تشدد کو روکنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ریاستی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرامن احتجاج کو یقینی بنائیں اور اگر کہیں قانون و نظم کا مسئلہ پیدا ہو تو متوازن اور ذمہ دارانہ کارروائی کریں۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·