نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک مرتبہ پھر ہمالیائی خطے کی ماحولیاتی حساسیت اور اس سے جڑے ممالک کے لیے ممکنہ خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے ہمالیہ کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات کے بھارت سمیت دیگر پڑوسی ممالک پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شیشیر کھنال نے کہا کہ نیپال اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے سماجی، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں سے جڑے رہے ہیں۔ تاہم، موجودہ ماحولیاتی حالات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کو ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
'ہمالیہ میں جو پگھلتا ہے وہ سمندر تک پہنچتا ہے'
نیپال کے وزیر خارجہ نے حالیہ سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ میں برف یا دیگر برفانی ذخائر سے جو پانی پگھلتا ہے، وہ دریاؤں کے ذریعے نیچے کی طرف بہتا ہوا بالآخر سمندر تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے ہمالیائی علاقوں میں اچانک پانی کے بہاؤ میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
ان کے مطابق ہمالیہ میں ہونے والے شدید موسمی واقعات کو صرف کسی ایک علاقے کی قدرتی آفت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ دریاؤں کے پانی میں اچانک اضافہ، گلیشیئرز اور برف کا پگھلنا اور شدید بارشیں سرحدوں کے پار بھی اثرات پیدا کر سکتی ہیں۔
بھارت کے لیے خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟
نیپال اور بھارت کے درمیان کئی اہم دریائی نظام موجود ہیں۔ ایسے میں نیپال کے ہمالیائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ بھارت کے میدانی علاقوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ شیشیر کھنال نے اسی باہمی ماحولیاتی تعلق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ میں ہونے والی تبدیلیوں کو مشترکہ تشویش کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کا پانی اس مرتبہ بھارت تک بڑے پیمانے پر نہیں پہنچا، لیکن مستقبل میں ایسی صورتحال پیدا ہونے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ موسمیاتی تبدیلی اور موسم کے غیر معمولی انداز ایسے خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
چار ممالک کا مشترکہ ماحولیاتی نظام
شیشیر کھنال نے چین، نیپال، بھارت اور بھوٹان کے درمیان موجود ماحولیاتی تعلقات پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کا مستقبل اور عوام کی فلاح و بہبود ہمالیائی ماحولیاتی نظام کے تحفظ سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی سطح پر ممالک کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر تعاون ضروری ہے۔ ہمالیہ دنیا کے حساس ترین پہاڑی علاقوں میں شامل ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات یہاں تیزی سے نظر آ رہے ہیں۔
پانی کی دستیابی بھی بڑا مسئلہ بن سکتی ہے
نیپال کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ ہمالیائی خطے میں ماحولیاتی تبدیلی مستقبل میں پانی کی دستیابی کے لیے سنگین مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے اثرات صرف سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پینے کے پانی کی دستیابی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وسیع تر خطے میں تقریباً دو ارب افراد کی زندگی اور مستقبل ہمالیہ سے نکلنے والے پانی کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے ماحولیاتی تحفظ، پانی کے انتظام اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے نیپال، بھارت، چین اور بھوٹان کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
علاقائی تعاون وقت کی ضرورت
نیپال میں آنے والے حالیہ سیلاب نے ہمالیائی خطے میں بہتر آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ماحولیاتی تعاون کی ضرورت کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ دریاؤں، گلیشیئرز اور آبی ذخائر سے متعلق معلومات کا تبادلہ، بروقت وارننگ کے نظام کو بہتر بنانا اور سرحد پار آفات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط کرنا مستقبل میں نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
شیشیر کھنال کے بیان کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ ہمالیہ کو صرف مختلف ممالک کی الگ الگ سرحدوں کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشترکہ ماحولیاتی خطے کے طور پر دیکھا جائے۔ ہمالیہ کے قدرتی ماحول کا تحفظ پورے جنوبی ایشیا میں پانی کی سلامتی اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


