پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ویڈیو پیغام پر سیاسی طنز کیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے ویڈیو پیغام میں خواتین کو اپنی بات کھل کر رکھنے اور اپنی خواہش کے مطابق آگے بڑھنے کی آزادی دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
جمعہ کو جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں راہل گاندھی نے کہا کہ خواتین کے اندر بہت زیادہ توانائی اور صلاحیت موجود ہے، لیکن کئی مرتبہ انہیں اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرنے کی مکمل آزادی نہیں ملتی۔ انہوں نے خواتین کو اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرنے اور معاشرے میں اپنی آواز مضبوط کرنے کا موقع دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک خواتین آزادانہ طور پر اپنی بات نہ کہہ سکیں اور اپنی صلاحیتوں کا مکمل استعمال نہ کرسکیں۔ انہوں نے خواتین پر مردوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے سماجی اور ذاتی کنٹرول کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی بات کی۔
راہل گاندھی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کیرن رجیجو نے اسے کانگریس کی جانب سے ایک مثبت پیغام قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے اسی موقع پر سیاسی طنز کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا راہل گاندھی کے دل میں خواتین کے حوالے سے خیالات تبدیل ہوگئے ہیں۔
رجیجو نے خواتین کے ریزرویشن کے معاملے کو بھی اس بحث سے جوڑ دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس پارٹی خواتین کے ریزرویشن سے متعلق قانون کی بغیر کسی شرط کے حمایت کرے گی۔
خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی بحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ پارلیمنٹ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن سے متعلق قانون پہلے ہی منظور کرچکی ہے۔ اس قانون کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
تاہم اس قانون کے نفاذ کا تعلق مردم شماری اور حلقہ بندی کے عمل سے بھی ہے۔ اسی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس قانون کے نفاذ کے طریقہ کار اور وقت کو لے کر اختلافات موجود ہیں۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حلقہ بندی کے معاملے پر مختلف اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو موجودہ پارلیمانی نشستوں کے ڈھانچے میں ہی نافذ کرنے کے طریقے پر غور کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب مرکزی حکومت کا موقف رہا ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو آئینی اور انتخابی عمل کے تحت حلقہ بندی اور دیگر ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد نافذ کیا جائے گا۔
ایسے سیاسی ماحول میں راہل گاندھی کا خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق بیان اور اس پر کیرن رجیجو کا ردعمل ایک مرتبہ پھر خواتین کے ریزرویشن کے معاملے کو سیاسی بحث میں لے آیا ہے۔
جہاں راہل گاندھی نے خواتین کی آزادی، اظہار رائے اور معاشرے میں ان کی مکمل شمولیت پر زور دیا، وہیں رجیجو نے کانگریس کے سیاسی موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے خواتین کے ریزرویشن کے قانون کی حمایت کا مطالبہ کیا۔
اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت اور کانگریس کے درمیان سیاسی بحث کس سمت آگے بڑھتی ہے۔ رجیجو کے تازہ بیان کے بعد اس معاملے پر دونوں فریقوں کی جانب سے مزید سیاسی بیان بازی کا امکان ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


