تازہ خبریں طرز زندگی
گنگا میں طغیانی، پٹنہ سٹی میں ہائی الرٹ؛ کئی سڑکیں بند


گنگا ندی کی سطح آب میں مسلسل اضافے کے باعث پٹنہ سٹی سب ڈویژن میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے دریا کے کنارے واقع حساس علاقوں میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے ہیں۔ گنگا کا پانی مسلسل بڑھ رہا ہے اور کئی نشیبی علاقوں کے ساتھ گھاٹوں کی طرف جانے والے راستے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھدر گھاٹ اور مہاویر گھاٹ کے آس پاس گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔

انتظامیہ نے احتیاطی قدم اٹھاتے ہوئے حساس مقامات پر بیریکیڈ لگا دیے ہیں۔ متاثرہ گھاٹوں کی طرف گاڑیوں اور پیدل جانے والے لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ لوگوں کو حادثات سے بچانے اور بڑھتی ہوئی سطح آب کے درمیان عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے لیا گیا ہے۔

حکام گنگا کی سطح آب پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور دریا کے کنارے کے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اور ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔

بھدر گھاٹ سے کنگن گھاٹ تک آمدورفت محدود

گنگا کے بڑھتے ہوئے پانی سے پٹنہ سٹی میں کئی گھاٹوں کو جوڑنے والی سڑکیں خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ بھدر گھاٹ سے مہاویر گھاٹ ہوتے ہوئے کنگن گھاٹ تک گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔

ندی کا پانی سڑک تک پہنچنے کے بعد راستے کے کئی حصے زیر آب آ گئے ہیں۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے اس حصے کو بند کر دیا ہے اور لوگوں کو متاثرہ علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔

اشوک راج پتھ اور گائے گھاٹ کی جانب سے گھاٹوں تک جانے والے راستوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ گاڑیوں کے ساتھ پیدل لوگوں کو بھی متاثرہ علاقوں کی طرف جانے سے روکا جا رہا ہے۔

انتظامیہ کا بنیادی مقصد لوگوں کو ایسے علاقوں میں جانے سے روکنا ہے جہاں بڑھتا ہوا پانی سڑکوں اور دریا کے کنارے کو خطرناک بنا رہا ہے۔ زیر آب سڑکوں پر خاص طور پر دو پہیہ اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے خطرہ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ پانی کے نیچے سڑک کی گہرائی اور حالت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

حکام نے دریا کے کنارے کا معائنہ کیا

پٹنہ سٹی کی ایس ڈی او کشش بخشی اور اے ایس پی راج کشور سنگھ نے دیگر افسران کے ساتھ بدھ کے روز دریا کے کنارے کے علاقوں کا معائنہ کیا۔ افسران نے گنگا میں بڑھتی ہوئی سطح آب کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا۔

افسران نے بھدر گھاٹ سے کنگن گھاٹ تک کے علاقے کا معائنہ کیا اور پانی کی سطح، سڑکوں کی حالت، لوگوں کی نقل و حرکت اور وہاں کیے گئے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔

معائنے کے دوران افسران نے موقع پر تعینات اہلکاروں کو ضروری ہدایات دیں اور حفاظتی انتظامات کو سختی سے برقرار رکھنے پر زور دیا۔

انتظامیہ گنگا کی سطح آب میں مزید اضافے کے امکان کو دیکھتے ہوئے بھی تیاری کر رہی ہے۔ حساس علاقوں میں موجود لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات کی جانب منتقل کرنے کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

لوگوں کو گھاٹوں میں داخل ہونے سے روکا گیا

گنگا کی سطح آب میں اضافے کے ساتھ کئی گھاٹوں کی جانب جانے والی نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی ہے۔ متاثرہ مقامات پر بیریکیڈ لگائے گئے ہیں اور لوگوں کو خطرناک علاقوں میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

پانی بڑھنے سے نہ صرف سڑکیں بلکہ گھاٹوں کی سیڑھیاں اور دریا تک پہنچنے کے راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ سطح آب بڑھنے کے ساتھ یہ مقامات پھسلن والے اور خطرناک ہو سکتے ہیں، جس سے حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بیریکیڈ عبور کرنے یا ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔ مقامی لوگوں اور آنے والے افراد کو انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے اور دریا کے کنارے غیر ضروری آمدورفت سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے۔

کچی درگاہ-رگھوپور راستہ مکمل طور پر بند

گنگا کے بڑھتے ہوئے پانی کا اثر پھتوہا علاقے میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں کچی درگاہ اور رگھوپور کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔

اس راستے پر نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی اور حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ صورتحال پر نظر رکھنے اور پابندیوں پر عمل کرانے کے لیے مجسٹریٹ بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

اس راستے کی بندش سے روزانہ سفر کرنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں احتیاطی طور پر لگائی گئی ہیں اور عوام کی حفاظت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

آگے کا فیصلہ گنگا کی سطح آب اور علاقے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

گنگا کی سطح آب پر انتظامیہ کی مسلسل نظر

پٹنہ سٹی انتظامیہ گنگا کی سطح آب کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ افسران دریا میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں جہاں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا اثر پڑ سکتا ہے۔

پانی بڑھنے کے ساتھ دریا کے قریب واقع نشیبی علاقوں اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے حساس مقامات پر نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حالات خراب ہونے کی صورت میں مزید علاقوں میں بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

 SDRF کی کشتیاں، اہلکار اور غوطہ خور تعینات

انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس یعنی SDRF کو بھی تعینات کیا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق 10 SDRF کشتیاں، 28 اہلکار اور 6 غوطہ خور تعینات کیے گئے ہیں۔

اگر دریا کے علاقے میں کوئی شخص پھنس جاتا ہے یا ریسکیو آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ ٹیمیں فوری کارروائی کر سکیں گی۔ کشتیوں، تربیت یافتہ اہلکاروں اور غوطہ خوروں کی موجودگی سے ممکنہ ریسکیو آپریشن کے لیے انتظامیہ کی تیاری مضبوط ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ 4 کشتیوں پر بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ تعینات اہلکاروں کے لیے تقریباً 30 لائف جیکٹس بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔

ان انتظامات کا مقصد دریا کے آس پاس نگرانی کو بہتر بنانا اور ضرورت پڑنے پر فوری ریسکیو آپریشن شروع کرنا ہے۔

ضرورت پڑنے پر دفعہ 163 نافذ ہو سکتی ہے

انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر گنگا کی سطح آب میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا صورتحال زیادہ حساس ہوتی ہے تو متاثرہ علاقوں میں دفعہ 163 نافذ کی جا سکتی ہے۔

اس طرح کے حکم کے ذریعے حساس علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ مقصد خطرناک مقامات کے قریب غیر ضروری بھیڑ اور آمدورفت کو روکنا اور حادثات کے امکانات کو کم کرنا ہوگا۔

فی الحال انتظامیہ کی توجہ زیر آب سڑکوں، متاثرہ گھاٹوں اور دیگر حساس علاقوں سے لوگوں کو دور رکھنے پر ہے۔ مزید پابندیوں کا فیصلہ صورتحال کے مطابق کیا جائے گا۔

وگوں سے محتاط رہنے کی اپیل

حکام نے گنگا کی سطح آب میں اضافے کے پیش نظر لوگوں سے خاص طور پر محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ رہائشیوں کو حساس گھاٹوں اور پانی سے متاثرہ راستوں پر جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

خاندانوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ بچوں اور بزرگوں کو دریا یا ممنوعہ گھاٹوں کے قریب نہ جانے دیں۔ پانی کی بڑھتی ہوئی سطح اور دریا کے بدلتے بہاؤ کے باعث ایسے مقامات جو عام حالات میں محفوظ نظر آتے ہیں، خطرناک ہو سکتے ہیں۔

لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بیریکیڈ کو نظر انداز نہ کریں اور ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔ حادثات سے بچنے اور عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

ٹنہ سٹی میں نگرانی مزید سخت

گنگا میں طغیانی کے درمیان پٹنہ سٹی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ افسران گھاٹوں، سڑکوں اور آس پاس کے علاقوں کی حالت کا باقاعدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

بھدر گھاٹ، مہاویر گھاٹ اور کنگن گھاٹ کے اطراف پابندیاں احتیاطی طور پر نافذ کی گئی ہیں۔ اسی طرح کچی درگاہ اور رگھوپور کے درمیان آمدورفت بھی روک دی گئی ہے تاکہ لوگوں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔

SDRF اہلکاروں، کشتیوں، غوطہ خوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور گنگا کی بدلتی ہوئی سطح آب پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

 آگے کیا ہوگا؟

آئندہ کا فیصلہ بڑی حد تک گنگا کی سطح آب اور حساس علاقوں کی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ اگر پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو انتظامیہ پابندیوں کا دوبارہ جائزہ لے سکتی ہے اور بند کیے گئے راستوں اور گھاٹوں کو کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اگر دریا کی سطح مزید بڑھتی ہے تو مزید سڑکوں اور علاقوں میں بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ضرورت پڑنے پر لوگوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے اور حساس مقامات میں داخلے کو روکنے کے لیے دفعہ 163 بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔

فی الحال پٹنہ سٹی کے کئی حساس گھاٹوں اور دریا کے کنارے واقع راستوں پر آمدورفت محدود کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی ترجیح حادثات کو روکنا اور گنگا کی بڑھتی ہوئی سطح آب کے درمیان لوگوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ مسلسل نگرانی اور ہنگامی ٹیموں کی تعیناتی کے ساتھ انتظامیہ صورتحال میں کسی بھی تبدیلی پر فوری کارروائی کے لیے تیار ہے۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·