تازہ خبریں طرز زندگی
نیپال میں سیلاب کی تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 810 تک پہنچی، 3048 افراد لاپتہ


نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور اچانک آنے والی طغیانی کے بعد صورتحال اب بھی انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے۔ 26 اگست کو شروع ہونے والی اس قدرتی آفت نے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں اچانک پانی بڑھنے کے باعث متعدد علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

اتوار تک نیپال اور تبت کو ملا کر اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 810 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں نیپال میں 794 اور تبت میں 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ دوسری جانب دونوں علاقوں میں مجموعی طور پر 3048 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

نیپال میں 2502 افراد لاپتہ

نیپال کی جانب سے 2502 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے، جبکہ تبت میں 546 افراد لاپتہ بتائے گئے ہیں۔ نیپال کی لاپتہ افراد کی فہرست میں 592 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کئی سڑکوں اور رابطہ راستوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

149 بھارتی شہریوں کو بچایا گیا

اس قدرتی آفت کے دوران بھارتی شہریوں کی سلامتی بھی ایک اہم تشویش بنی ہوئی ہے۔ بھارتی حکام کی جانب سے اتوار کی شام جاری معلومات کے مطابق نیپال میں 149 بھارتی شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل جاری ہونے والی لاپتہ افراد کی تازہ فہرست میں 275 بھارتی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بھارتی نژاد 128 افراد سے بھی رابطہ قائم نہیں ہو سکا تھا۔

بھارتی حکام نیپال کی متعلقہ ایجنسیوں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ لاپتہ بھارتی شہریوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں اور متاثرہ افراد کو ضروری مدد فراہم کی جا سکے۔

 کئی علاقوں میں امدادی اور صفائی مہم

سیلابی پانی کم ہونے کے بعد بعض متاثرہ علاقوں میں امدادی اور صفائی کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ نوواکوت کے لکھو دیہی بلدیاتی علاقے کے رضاکار بھی بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

رضاکار دیوی گھاٹ سمیت متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ملبہ ہٹانے اور معمول کی صورتحال بحال کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی افراد بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

 26 اگست کو آیا تھا تباہ کن سیلاب

نیپال میں اس خوفناک قدرتی آفت کا آغاز 26 اگست 2026 کی صبح ہوا تھا۔ نیپال-تبت سرحد کے قریب شدید بارش اور گلیشیئر سے متعلق واقعات کے بعد لھینڈے کھولا اور بھوٹے کوشی دریاؤں میں پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی۔

تیز رفتار پانی نے نشیبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کئی مقامات پر سیلاب کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی، جس سے تباہی میں مزید اضافہ ہوا۔

اچانک پانی بڑھنے کی وجہ سے کئی لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچنے کا مناسب وقت نہیں مل سکا۔ متعدد افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ کئی لوگ مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

لاپتہ افراد کی تلاش جاری

ریسکیو اداروں کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج لاپتہ افراد کو تلاش کرنا ہے۔ نیپال اور تبت میں ہزاروں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

دریاؤں کے کناروں، متاثرہ آبادیوں اور دشوار گزار علاقوں میں بھی تلاش کی جا رہی ہے۔ سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث بعض علاقوں تک رسائی مشکل ہے، اس لیے امدادی ٹیمیں متبادل راستوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

غیر ملکی شہری بھی لاپتہ افراد میں شامل

نیپال میں لاپتہ افراد کی فہرست میں 592 غیر ملکی شہریوں کے شامل ہونے سے مختلف ممالک میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔ متعلقہ حکام اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کی سلامتی کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نیپال کی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو خطرناک علاقوں سے دور رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔

 امدادی کارروائیاں مزید جاری رہیں گی

اگرچہ بعض علاقوں میں سیلابی پانی کم ہونا شروع ہو گیا ہے، لیکن خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ تباہ شدہ سڑکیں، ملبہ، غیر مستحکم زمین اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات اب بھی ریسکیو ٹیموں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

حکام کی ترجیح لاپتہ افراد کو تلاش کرنا، متاثرہ خاندانوں تک امدادی سامان پہنچانا، زخمیوں کو طبی مدد فراہم کرنا اور متاثرہ علاقوں میں رابطہ و مواصلاتی نظام بحال کرنا ہے۔

نیپال کی یہ تباہی ایک بار پھر ہمالیائی علاقوں میں شدید بارش، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔ فی الحال ریسکیو ٹیمیں ان افراد کی تلاش پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·