تازہ خبریں طرز زندگی
ہلدوانی تطہیر تنازع پر کھڑگے ناراض، CWC میں حمایت نہ ملنے پر مایوسی


کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد سامنے آنے والے مبینہ تطہیری تنازع پر پارٹی کے اندر سے خاطر خواہ حمایت نہ ملنے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ بدھ کو دہلی میں منعقدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی یعنی CWC کے اجلاس میں کھڑگے نے اس معاملے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کھڑگے نے اجلاس میں موجود پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ انہیں اس بات کا دکھ ہوا کہ CWC کے کئی ارکان نے ہلدوانی کے واقعے کی کھل کر مذمت نہیں کی اور نہ ہی اس معاملے پر ان کی حمایت میں مضبوط آواز اٹھائی۔

تاہم کھڑگے نے اجلاس میں کسی مخصوص کانگریسی رہنما کا نام نہیں لیا۔ ان کے بیان سے یہ تاثر ملا کہ وہ پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کے ردعمل سے مطمئن نہیں تھے اور انہیں توقع تھی کہ اس معاملے پر پارٹی کے اندر سے زیادہ واضح حمایت سامنے آئے گی۔

یہ تنازع 8 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی جانب سے منعقدہ وجے شنکھ ناد ریلی کے بعد سامنے آیا۔ اس ریلی سے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے خطاب کیا تھا۔ دو دن بعد 10 اگست کو دائیں بازو کی تنظیم شری رام سینا کی جانب سے اسی مقام پر تطہیری ہون کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔

اس واقعے کے بعد کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ سیاسی پروگرام کے بعد ریلی کے مقام پر تطہیری رسم ادا کرنا سماجی امتیاز اور دلت مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا کہ مبینہ تطہیری رسم میں شامل افراد کے تعلقات بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں سے ہیں۔ پارٹی نے اس معاملے کو سماجی مساوات، عزت اور امتیازی سلوک کے وسیع تناظر میں اٹھایا۔

CWC اجلاس کے بعد کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے واقعے کو ناقابل قبول اور قابل مذمت قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس سے بی جے پی کی ذہنیت ظاہر ہوتی ہے۔

دوسری جانب بی جے پی نے اس واقعے سے خود کو الگ کرلیا اور دائیں بازو کی تنظیم کی مبینہ کارروائی کی مذمت کی۔ اس کے بعد یہ معاملہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی اختلاف کا ایک نیا موضوع بن گیا۔

ملکارجن کھڑگے نے مانسون اجلاس کے آخری دن پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے کو اٹھایا تھا۔ کانگریس صدر نے ہلدوانی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سماجی مساوات اور عزت سے متعلق اپنے اعتراضات کا اظہار کیا۔

CWC اجلاس میں کھڑگے کی ناراضگی نے کانگریس کے اندرونی ردعمل پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔ ان کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ پارٹی قیادت چاہتی ہے کہ سماجی انصاف اور امتیازی سلوک جیسے حساس معاملات پر سینئر رہنما زیادہ متحد اور واضح انداز میں پارٹی کے موقف کی حمایت کریں۔

ملکارجن کھڑگے طویل عرصے سے سماجی انصاف اور محروم طبقات کے حقوق سے متعلق مسائل کو سیاسی بحث میں اہمیت دیتے رہے ہیں۔ اسی لیے ہلدوانی کے واقعے پر ان کی ناراضگی کو پارٹی کے اندرونی اتحاد اور حساس سیاسی معاملات پر مشترکہ موقف کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اگرچہ کھڑگے نے کسی رہنما کا نام نہیں لیا، لیکن CWC اجلاس میں ان کے بیان سے یہ پیغام ضرور گیا کہ پارٹی قیادت اہم سماجی اور سیاسی تنازعات پر اپنے سینئر رہنماؤں سے زیادہ واضح اور کھلی حمایت کی توقع رکھتی ہے۔

ہلدوانی کا یہ تنازع اب صرف کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ کانگریس کی اندرونی حکمت عملی اور ایسے حساس معاملات پر پارٹی کے اجتماعی ردعمل کے حوالے سے بھی اہم موضوع بن گیا ہے۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·