تازہ خبریں طرز زندگی
اتراکھنڈ میں پگھلتے گلیشیئرز سے 77 نئی جھیلیں بن گئیں


اتراکھنڈ کے بلند ہمالیائی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے نے ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ پتھورا گڑھ ضلع کے بلند علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے نتیجے میں 77 نئی جھیلیں بننے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی یہ جھیلیں مستقبل میں اچانک سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب ان میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ جائے یا پانی کو روکنے والے قدرتی بند کمزور ہو جائیں۔

نیپال اور تبت کی سرحد سے متصل ہمالیائی علاقوں میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے ایک بار پھر ہمالیائی ماحول کی حساسیت کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین ان واقعات کی وجوہات کا مزید تفصیلی مطالعہ کریں گے، جس میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، گلیشیئرز کے پگھلنے اور نئی جھیلوں کی تشکیل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

تجزیوں کے مطابق گزشتہ 32 برسوں کے دوران خطے میں گلیشیئرز کی برف میں تقریباً 20 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ نئی گلیشیئر جھیلیں کیوں خطرناک ہیں؟

گلیشیئرز کے پگھلنے کے نتیجے میں بڑی مقدار میں پانی جمع ہوتا ہے اور اس سے گلیشیئرز کے قریب نئی جھیلیں بن سکتی ہیں۔ اگر ان جھیلوں میں پانی کا دباؤ بڑھ جائے تو قدرتی بند کمزور ہو سکتے ہیں اور اچانک پانی کا بڑا ریلا نیچے کی جانب بہہ سکتا ہے۔

ایسے واقعات پہاڑی علاقوں میں موجود دیہات، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اتراکھنڈ میں یہ خطرہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کئی اہم دریا اور ان کی معاون ندیاں بلند ہمالیائی علاقوں سے نکلتی ہیں۔ اگر کسی گلیشیئر جھیل میں پانی اچانک بڑھ جائے یا اس کا قدرتی بند ٹوٹ جائے تو تیز رفتار پانی نچلے علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔

 ہمالیائی خطے میں بڑھتا خطرہ

ہمالیائی خطہ پہلے ہی شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، زلزلوں اور موسمی تبدیلیوں کے باعث انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے اس خطرے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

پتھورا گڑھ میں 77 نئی جھیلوں کی نشاندہی کے بعد ان کی مسلسل نگرانی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کن جھیلوں میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور کون سی جھیلیں نچلے علاقوں کے لیے زیادہ خطرہ بن سکتی ہیں۔

 مسلسل نگرانی کی ضرورت

ماہرین نیپال-تبت سرحد اور اتراکھنڈ کے بلند ہمالیائی علاقوں میں بدلتے حالات کا مزید مطالعہ کریں گے۔ اس میں گلیشیئرز کی صورتحال، نئی بننے والی جھیلوں، پانی کی سطح میں تبدیلی اور اردگرد کے جغرافیائی حالات کا جائزہ شامل ہو سکتا ہے۔

ہمالیائی ماحول میں مسلسل تبدیلی کے پیش نظر سائنسی نگرانی اور بروقت وارننگ سسٹم کو مضبوط کرنا انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·