شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی ترجیحات کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت SCO کے لیے سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی اپنے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خطرے سے پاک خطہ بنانے کے لیے تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقائی سلامتی، دہشت گردی اور سرحد پار چیلنجز SCO کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ بھارت مسلسل دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مشترکہ اور مؤثر کارروائی کی حمایت کرتا رہا ہے۔
سلامتی بھارت کی اہم ترجیح
بھارت کے علاقائی تعاون کے وژن میں سلامتی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ پائیدار امن اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم ماحول ضروری ہے۔
دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کا اثر صرف کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے خطے کی معاشی اور سماجی ترقی متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی کے خطرے سے پاک خطے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔
علاقائی رابطے پر بھی زور
وزیر اعظم کے بیان میں رابطے اور کنیکٹیویٹی کو بھی اہم مقام دیا گیا ہے۔ بہتر علاقائی رابطے سے تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور عوام کے درمیان روابط کو فروغ مل سکتا ہے۔
بھارت علاقائی رابطے کو شفاف، قابل اعتماد اور تمام متعلقہ ممالک کے مفادات کا احترام کرنے والی بنیاد پر آگے بڑھانے کی حمایت کرتا رہا ہے۔ بہتر ٹرانسپورٹ روابط اور تجارتی راستے SCO کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش
وزیر اعظم مودی نے مواقع کو بھی بھارت کے وژن کا اہم حصہ قرار دیا۔ اس میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع شامل ہیں۔
SCO کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافہ پورے خطے کے لیے نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔ عالمی معیشت کو درپیش مختلف چیلنجز کے درمیان علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا مزید اہم ہوگیا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوشش
بھارت طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی سطح پر متحدہ کوشش ضروری ہے۔ بھارت دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کی مخالفت بھی کرتا رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف تعاون صرف سکیورٹی اداروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان مالی اور دیگر نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے جو دہشت گرد سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔ SCO جیسے کثیر ملکی پلیٹ فارم اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
SCO میں بھارت کا کردار
SCO میں بھارت کی اہمیت علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور رابطے کے معاملات میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بھارت اس پلیٹ فارم کے ذریعے علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی کا تازہ بیان بھی اسی وسیع نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے جس میں سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مواقع اور علاقائی رابطے کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
علاقائی تعاون کے لیے وسیع وژن
وزیر اعظم کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت کا وژن صرف سلامتی کے مسائل تک محدود نہیں ہے۔ بھارت خطے میں اقتصادی ترقی، رابطے اور نئے مواقع کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو بھی آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
SCO کے رکن ممالک کے درمیان بہتر تعاون سے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ سکیورٹی کے شعبے میں مشترکہ کوششیں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
آئندہ اجلاس میں اہم موضوعات
SCO کے اجلاسوں میں دہشت گردی، علاقائی سلامتی، رابطے، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان باہمی رابطہ اہم موضوعات رہنے کی توقع ہے۔
وزیر اعظم مودی کا بیان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ بھارت ایک ایسے علاقائی تعاون کے ماڈل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے جہاں سلامتی کے ساتھ ترقی اور مواقع کو بھی اہمیت حاصل ہو۔ بھارت کے لیے دہشت گردی سے پاک ماحول اس وسیع وژن کی بنیادی شرط ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


