مغربی بنگال کے ضلع پوربا بردھمان میں اسپیشل ٹاسک فورس (STF) اور ضلعی پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران محمد حامد منڈل نامی ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، جس پر کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے تعلق رکھنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کے مطابق ملزم کے قبضے سے وی آئی پی نقل و حرکت اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق بعض دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔ حکام ان دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کا مقصد کیا تھا اور آیا کسی ممکنہ سکیورٹی خطرے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی یا نہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم پہلے ہاوڑہ کے پیلکھانہ علاقے میں ایک کپڑے کی فیکٹری میں کام کرتا تھا اور تقریباً دو سے تین ماہ قبل بردھمان میں کرائے کے ایک فلیٹ میں منتقل ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی محدود انداز میں رہتا تھا اور مقامی لوگوں سے زیادہ میل جول نہیں رکھتا تھا۔
ایس ٹی ایف نے رات کے وقت چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا اور بعد ازاں عدالت میں پیش کیا، جہاں مزید پوچھ گچھ کے لیے پولیس ریمانڈ کی درخواست کی گئی۔ تفتیشی ادارے اس کے موبائل فون، ڈیجیٹل آلات، مالی لین دین اور ممکنہ روابط کی بھی جانچ کر رہے ہیں تاکہ کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے روابط ہونے کا شبہ ہے، جبکہ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا اس کا تعلق سجاد بھٹ گروپ سے تھا یا نہیں۔ تاہم ان تمام دعووں کی حتمی تصدیق ابھی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
گرفتاری کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق ملزم خاموش مزاج تھا اور زیادہ تر اپنے ہی کام سے کام رکھتا تھا۔ تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


