کھٹمنڈو: نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب اچانک آنے والے شدید سیلاب نے پہاڑی ضلع رسوا میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کے باعث کئی گاؤں اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں *سیابرو بیسی اور تیمورے* خاص طور پر شامل ہیں۔ حکام نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے دریائے بھوٹے کوشی کے قریب رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
گاؤں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان
مقامی انتظامیہ کے مطابق سیلابی پانی کے تیز بہاؤ سے کئی گاؤں اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے مقامات متاثر ہوئے ہیں۔ پہاڑی علاقے میں پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ نے مقامی لوگوں کے لیے خطرہ بڑھا دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت نقصان کا مکمل اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنے اور صورتحال کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ سیلاب سے جانی اور مالی نقصان کافی زیادہ ہوسکتا ہے۔ تاہم حتمی اعداد و شمار امدادی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آنے کی توقع ہے۔
دریائے بھوٹے کوشی کے کنارے رہنے والوں کو خبردار کیا گیا
حکام نے *دریائے بھوٹے کوشی* کے کنارے رہنے والے لوگوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
دریا میں پانی کی سطح اچانک بڑھنے کے خطرے کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ دریا کے قریب جانے سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔
سیکیورٹی اہلکار لاپتہ
سیلاب کے دوران سیکیورٹی فورسز کے *28 اہلکاروں سے رابطہ منقطع* ہوگیا ہے۔ ان میں نیپال پولیس کے 19 اہلکار اور آرمڈ پولیس فورس کے 9 اہلکار شامل ہیں۔
رسوا گڑھی پولیس پوسٹ پر تعینات 22 پولیس اہلکاروں میں سے 9 سے رابطہ قائم ہوگیا ہے، جبکہ 13 اہلکاروں سے ابھی تک رابطہ نہیں ہوسکا۔
سیابرو بیسی کے علاقے میں تعینات 9 پولیس اہلکاروں میں سے 3 سے رابطہ ہوگیا ہے، جبکہ 6 اہلکار تاحال رابطے سے باہر ہیں۔
اس کے علاوہ تیمورے بارڈر آؤٹ پوسٹ پر تعینات آرمڈ پولیس فورس کے 9 اہلکاروں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
پولیس اور فوج امدادی کارروائیوں میں مصروف
سیلاب کے بعد نیپال حکومت نے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کو تیز کردیا ہے۔ پولیس اور فوج کی ٹیموں کو بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجا گیا ہے۔
ان ٹیموں کی ترجیح لاپتہ اہلکاروں کا پتہ لگانا، متاثرہ شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور سیلاب سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینا ہے۔
حکام نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
ہائیڈرو پاور منصوبے بھی متاثر
نیپال کے پہاڑی علاقوں میں کئی ہائیڈرو پاور منصوبے موجود ہیں۔ سیلابی پانی کے تیز بہاؤ سے بعض منصوبوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ان منصوبوں سے جڑی سڑکوں اور دیگر سہولیات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ متعلقہ ادارے فی الحال متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور مجموعی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
دریائے بھوٹے کوشی میں پہلے بھی آیا تھا سیلاب
دریائے بھوٹے کوشی میں اس سے پہلے بھی شدید سیلاب آچکا ہے۔ گزشتہ سال آنے والے سیلاب میں کئی افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہوئے تھے۔
اس دوران نیپال اور چین کو ملانے والا ایک اہم پل بھی متاثر ہوا تھا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت اور تجارت پر طویل عرصے تک اثر پڑا تھا۔
گزشتہ واقعات کے باعث موجودہ سیلاب کے بعد مقامی انتظامیہ اور شہریوں میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
دریا کا تعلق تبت کے علاقے سے
دریائے بھوٹے کوشی تبت کے علاقے سے نکلتا ہے اور نیپال میں آگے چل کر دریائے ترشولی سے مل جاتا ہے۔ یہ دریائی نظام آگے چل کر ہندوستان میں گنڈک دریا سے منسلک ہوتا ہے۔
اوپری علاقوں میں پانی کی سطح اچانک بڑھنے سے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر پہاڑی وادیوں اور دریائے کنارے آباد علاقوں میں۔
نقصان کا مکمل اندازہ ابھی باقی
سیلاب کے بعد متعدد متاثرہ علاقوں تک رسائی مشکل ہونے کی وجہ سے انتظامیہ ابھی تک نقصان کا مکمل اندازہ نہیں لگا سکی ہے۔
اس وقت حکام کی اولین ترجیح لاپتہ سیکیورٹی اہلکاروں کی تلاش، خطرناک علاقوں سے شہریوں کا انخلا اور متاثرہ لوگوں کو ضروری امداد فراہم کرنا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں حالات بہتر ہونے کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


