تازہ خبریں طرز زندگی
فوکٹ-دہلی پرواز کی تحقیقات میں بڑا انکشاف، پائلٹ ٹیسٹ نان نیگیٹو


ایئر انڈیا کی پرواز AI-2379، جو فوکٹ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئی تھی، میں 4 اگست کو دوران پرواز تقریباً 300 فٹ کی اچانک بلندی کم ہونے کے واقعے کی تحقیقات میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو یعنی AAIB نے اس واقعے پر اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پائلٹ اِن کمانڈ کے کنفرمیٹری ٹیسٹ میں سائیکو ایکٹو سبسٹنس کے لیے نان نیگیٹو نتیجہ سامنے آیا ہے۔

AAIB نے اس نتیجے کو تشویش کا سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن یعنی DGCA سے ترجیحی بنیاد پر مناسب کارروائی کی سفارش کی ہے۔

تاہم یہ ابتدائی رپورٹ ہے اور واقعے کے تکنیکی، آپریشنل اور دیگر پہلوؤں کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ اس لیے حتمی وجہ اور ذمہ داری کے بارے میں فیصلہ مکمل تحقیقات اور آخری رپورٹ کے بعد ہی واضح ہوگا۔

 پرواز AI-2379 میں کیا ہوا تھا؟

4 اگست کو ایئر انڈیا کا Airbus A320 طیارہ فوکٹ سے دہلی کے لیے پرواز کررہا تھا۔ پرواز کے دوران طیارہ کروز فیز میں تھا، اسی دوران اس کی بلندی میں اچانک تقریباً 300 فٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

بلندی میں اچانک تبدیلی کی وجہ سے طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے میں کم از کم 17 مسافروں اور عملے کے ارکان کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ بعض افراد کو گردن اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق چوٹیں بھی آئیں۔

اس کے باوجود طیارہ اپنا سفر مکمل کرتے ہوئے محفوظ طریقے سے دہلی پہنچ گیا۔ ایئر لائن کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کسی کو شدید چوٹ نہیں آئی اور جن مسافروں کو طبی امداد کی ضرورت تھی، ان کا ایئرپورٹ پر طبی معائنہ کیا گیا۔

 تحقیقات میں پائلٹ کے ٹیسٹ پر توجہ

واقعے کے ابتدائی مرحلے میں اچانک بلندی کم ہونے کی مختلف ممکنہ وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔ ٹربولنس کے امکان کے ساتھ ساتھ طیارے کے تکنیکی اور آپریشنل پہلوؤں کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا۔

اب AAIB کی ابتدائی رپورٹ میں پائلٹ اِن کمانڈ کے کنفرمیٹری ٹیسٹ کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد تحقیقات میں یہ پہلو بھی اہم ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں سائیکو ایکٹو سبسٹنس کے لیے نان نیگیٹو نتیجے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم صرف نان نیگیٹو ٹیسٹ کی بنیاد پر کسی حتمی خلاف ورزی یا طیارے کی بلندی میں کمی کی وجہ ثابت نہیں ہوتی۔ ایسے نتائج کا جائزہ مقررہ طبی، قانونی اور ریگولیٹری طریقہ کار کے مطابق کیا جاتا ہے۔

DGCA سے کارروائی کی سفارش

AAIB نے ابتدائی رپورٹ میں DGCA سے ترجیحی بنیاد پر مناسب کارروائی کی سفارش کی ہے۔

ہوا بازی کے شعبے میں پائلٹ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ پرواز کی حفاظت کے لیے پائلٹس کو تربیت، میڈیکل ٹیسٹ، صلاحیت کی جانچ اور دیگر لازمی ضابطوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

اب DGCA ابتدائی رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر مزید کارروائی کرسکتا ہے۔ تاہم کسی بھی حتمی کارروائی کا انحصار مکمل تحقیقات اور متعلقہ ریگولیٹری عمل کے نتائج پر ہوگا۔

 AAIB نے واقعے کو سنجیدہ واقعہ قرار دیا

AAIB نے فوکٹ-دہلی پرواز کے واقعے کو 'سیریس انسیڈنٹ' یعنی سنجیدہ واقعے کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔

ہوا بازی کے واقعات کی تحقیقات کا مقصد صرف کسی ایک فرد کو ذمہ دار قرار دینا نہیں ہوتا، بلکہ واقعے کی مکمل وجوہات، تکنیکی عوامل، آپریشنل حالات اور دیگر ممکنہ عوامل کو سمجھنا بھی ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے AI-2379 کی تحقیقات میں مختلف تکنیکی اور آپریشنل ریکارڈز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ٹربولنس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع

واقعے کے بعد ابتدائی طور پر اچانک بلندی کم ہونے کو ٹربولنس کے ممکنہ اثرات سے جوڑا گیا تھا۔ تاہم ہوا بازی کے کسی بھی واقعے کی تحقیقات میں کسی ایک وجہ کو فوری طور پر حتمی وجہ قرار نہیں دیا جاتا۔

اب ابتدائی رپورٹ کے بعد پائلٹ کے ٹیسٹ کے نتیجے کو بھی تحقیقات کے اہم پہلو کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ٹیسٹ کے نتیجے اور طیارے کی اچانک بلندی کم ہونے کے درمیان براہ راست تعلق ثابت ہوچکا ہے۔

اس کے لیے تحقیقات کرنے والے ادارے کو تمام تکنیکی اور دیگر شواہد کا مکمل تجزیہ کرنا ہوگا۔

 ایئر انڈیا نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی

ایئر انڈیا نے AAIB کی ابتدائی رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون جاری رکھے گی۔

ایئر لائن کے مطابق متعلقہ آپریشنل، مینٹیننس اور تکنیکی ریکارڈ تحقیقات کرنے والے ادارے کو فراہم کیے جائیں گے۔

ایئر انڈیا نے یہ بھی کہا کہ مسافروں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے۔ ایئر لائن کے مطابق اس کے پائلٹس قومی اور بین الاقوامی ضوابط کے مطابق سخت تربیت، باقاعدہ صلاحیت کی جانچ، طبی معائنوں اور دیگر ریگولیٹری جائزوں سے گزرتے ہیں۔

حتمی رپورٹ کا انتظار

AAIB کی موجودہ رپورٹ ابتدائی رپورٹ ہے اور اسے حتمی تحقیقاتی نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

واقعے کے تکنیکی اور دیگر پہلوؤں کی تفصیلی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ طیارے کی بلندی اچانک کم ہونے کی اصل وجہ کیا تھی اور اس واقعے میں کن حالات کا کردار تھا۔

پائلٹ کے ٹیسٹ کے نتیجے سے متعلق بھی حتمی صورتحال تحقیقات اور متعلقہ ریگولیٹری عمل مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

 ہوا بازی کی حفاظت پر دوبارہ توجہ

AI-2379 کا واقعہ ایک بار پھر پائلٹ کی فٹنس، طیارے کی تکنیکی حفاظت اور سخت آپریشنل ضوابط کی اہمیت کو سامنے لاتا ہے۔

محفوظ پرواز کے لیے پائلٹ اور کیبن کریو کے ساتھ ساتھ طیارے کے تکنیکی نظام، مینٹیننس، ایئر ٹریفک کنٹرول اور دیگر آپریشنل نظام کا درست طریقے سے کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ایسے واقعات کی تفصیلی تحقیقات مستقبل میں ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کرنے اور اسی نوعیت کے واقعات کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

فی الحال AAIB کی ابتدائی رپورٹ کے بعد معاملے میں DGCA کے ممکنہ اگلے اقدامات اور حتمی تحقیقاتی رپورٹ پر توجہ مرکوز ہے۔
 

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·