جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ثانوی آچاریہ تقرری امتحان کے 2,819 امیدواروں کا دوبارہ امتحان لینے کے JSSC کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے کمیشن سے پوچھا کہ کیا امتحان کے دوران کسی کمپیوٹر کو بیرونی طور پر متاثر یا ہیک کرنا تکنیکی طور پر ممکن ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 29 اگست کو ہوگی۔
مرکزی خبر
رانچی: جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں ثانوی آچاریہ تقرری امتحان سے متعلق معاملے کی پیر کے روز سماعت ہوئی۔ جسٹس دیپک روشن کی عدالت نے 2,819 امیدواروں کا دوبارہ امتحان لینے کے جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن یعنی JSSC کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے امتحان میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹم کی سکیورٹی اور بیرونی مداخلت کے امکانات سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔ عدالت نے JSSC سے پوچھا کہ کیا امتحان کے دوران کسی کمپیوٹر کو بیرونی طور پر متاثر کرنا یا اسے ہیک کرنا تکنیکی طور پر ممکن ہے۔
عدالت کا یہ سوال امتحان کی تکنیکی سکیورٹی اور پورے عمل کی شفافیت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ عدالت یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ اگر امتحان کے دوران کمپیوٹر سسٹم میں بیرونی مداخلت ممکن ہو تو اسے روکنے کے لیے کس طرح کے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
2,819 امیدواروں کے دوبارہ امتحان کا معاملہ
یہ معاملہ ثانوی آچاریہ تقرری امتحان میں شامل 2,819 امیدواروں سے متعلق ہے۔ JSSC نے ان امیدواروں کا دوبارہ امتحان لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست میں دوبارہ امتحان کرانے کے فیصلے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ امتحان کے عمل، تکنیکی انتظامات اور اس سے متعلق حالات پر بھی عدالت کے سامنے سوالات رکھے گئے ہیں۔
ہائی کورٹ اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ امتحان سے متعلق مبینہ تکنیکی مسئلہ کس نوعیت کا تھا اور کیا کسی بیرونی ذریعے سے امتحان میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹم کو متاثر کیا جاسکتا تھا۔
کمپیوٹر سسٹم کی سکیورٹی پر عدالت کی توجہ
کمپیوٹر پر مبنی امتحانات میں کمپیوٹر، سرور، نیٹ ورک اور دیگر تکنیکی نظام کی سکیورٹی بہت اہم ہوتی ہے۔ کسی بھی بیرونی مداخلت سے امتحان کی شفافیت اور اعتبار پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے JSSC سے تکنیکی جواب طلب کیا ہے۔ اس جواب سے یہ واضح ہوسکتا ہے کہ امتحان کے دوران کمپیوٹر سسٹم میں بیرونی مداخلت تکنیکی طور پر ممکن تھی یا نہیں۔
اگر ایسی مداخلت ممکن تھی تو عدالت یہ بھی دیکھ سکتی ہے کہ اسے روکنے کے لیے امتحانی مراکز پر کون سے حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔
دوبارہ امتحان کے فیصلے سے امیدوار متاثر
2,819 امیدواروں کا دوبارہ امتحان لینے کا فیصلہ ان تمام امیدواروں کے لیے اہم ہے جنہوں نے پہلے امتحان دیا تھا۔ اگر دوبارہ امتحان ہوتا ہے تو انہیں ایک بار پھر امتحانی عمل سے گزرنا ہوگا۔
اسی وجہ سے یہ معاملہ امیدواروں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ہائی کورٹ میں پیش کیے جانے والے حقائق اور تکنیکی معلومات اس معاملے کی آئندہ سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
فی الحال عدالت نے دوبارہ امتحان کرانے کے معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ عدالت معاملے کے تکنیکی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
اگلی سماعت 29 اگست کو
مقدمے کی اگلی سماعت 29 اگست کو ہوگی۔ اس دوران JSSC عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے سکتا ہے۔
اگلی سماعت میں امتحان کے تکنیکی حفاظتی انتظامات، کمپیوٹر سسٹم میں بیرونی مداخلت کے امکان اور دوبارہ امتحان کرانے کے فیصلے سے متعلق مزید وضاحت سامنے آسکتی ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


