تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
نیپال میں تباہ کن سیلاب، 165 لاشیں برآمد؛ سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ


کٹھمنڈو: نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب نے کئی علاقوں میں شدید تباہی مچا دی۔ نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب شروع ہونے والے اس اچانک سیلاب نے پہاڑی علاقوں میں گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

نیپال کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں سے اب تک 165 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں، جبکہ 826 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں مقامی شہریوں کے علاوہ سکیورٹی اہلکار اور سیاح بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق 579 سیاحوں سے بھی ابھی تک رابطہ نہیں ہوسکا، جن میں 466 غیر ملکی اور 113 نیپالی سیاح شامل ہیں۔ 

 پہاڑی علاقوں میں سب سے زیادہ تباہی

اس قدرتی آفت سے نیپال کے رسووا اور آس پاس کے پہاڑی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سیلابی پانی اپنے ساتھ مٹی، چٹانیں اور ملبہ لے کر آیا، جس نے دریاؤں اور وادیوں کے قریب موجود آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

کئی مقامات پر سڑکیں اور پل بھی تباہ ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی مشکل ہوگئی ہے۔

 165 لاشیں برآمد

حکام کے مطابق اب تک 165 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔ سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کے باعث کچھ لاشیں بہہ کر دوسرے اضلاع تک پہنچ گئیں، جہاں سے انہیں برآمد کیا گیا۔ کئی لاشوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

لاپتہ افراد میں 85 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جن میں نیپالی فوج کے 44، نیپال پولیس کے 28 اور آرمڈ پولیس فورس کے 13 اہلکار شامل ہیں۔ رسووا اور نواکوٹ کے کئی مقامی افراد بھی لاپتہ ہیں۔ 

سیاحوں اور یاتریوں کی بھی تلاش

متاثرہ علاقہ نیپال کے اہم سیاحتی اور مذہبی راستوں میں شامل ہے۔ حکام کے مطابق 579 سیاحوں سے تاحال رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

اس علاقے کا تعلق کیلاش مانسروور یاترا کے راستے سے بھی ہے، جس کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں اور یاتریوں کی سلامتی کو لے کر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ 

 بھارتی شہری بھی متاثر

اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والوں میں کئی بھارتی شہریوں کے شامل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بھارتی حکام نیپال کے ساتھ رابطے میں ہیں اور متاثرہ بھارتی شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور انہیں مدد فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ 

سیلاب کی وجہ کیا بنی؟

ابتدائی سائنسی تجزیے کے مطابق ہمالیائی علاقے میں گلیشیئر کے ایک حصے کے گرنے سے پانی اور ملبے کی بڑی مقدار دریائی نظام میں داخل ہوئی، جس کے بعد اچانک شدید سیلاب آیا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے تجزیے کے مطابق یہ واقعہ روایتی زلزلے کے بجائے گلیشیئر کے انہدام سے منسلک تھا۔ 

 امدادی کارروائیاں جاری

ریسکیو ٹیموں نے اب تک 104 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا ہے۔ نیپال میں فوج، پولیس اور دیگر امدادی اداروں کے اہلکار لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔

دور دراز پہاڑی علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹرز کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ 

نیپال اور تبت کو ملا کر لاپتہ افراد کی تعداد تقریباً 1,500 تک بتائی گئی ہے۔ تاہم ریسکیو آپریشن آگے بڑھنے کے ساتھ یہ اعداد و شمار تبدیل ہوسکتے ہیں۔ 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·