*رانچی:* جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن یعنی JPSC کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہی CID کو گرفتار ملزم ابھیے کمار تیواری عرف منوج کمار تیواری سے پوچھ گچھ کے دوران کئی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ تیواری امتحان کے انعقاد سے متعلق کمپنی میں مارکیٹنگ مینیجر کے طور پر کام کر رہا تھا اور اسے گرفتار کیے جانے کے بعد ریمانڈ کے دوران اس سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔
CID کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران ابھیے تیواری نے مبینہ طور پر ایسے نیٹ ورک کے بارے میں معلومات دی ہیں جو امیدواروں سے رقم وصول کرنے، امتحان کے مختلف مراحل میں فائدہ پہنچانے اور انٹرویو میں مبینہ طور پر نمبر بڑھانے سے متعلق تھا۔
اس مبینہ بیان میں JPSC کے سابق چیئرمین ایل. کھینگتے، سابق ارکان ڈاکٹر اجیتا بھٹاچاریہ، ڈاکٹر انیما ہانسدا اور ڈاکٹر جمال احمد سمیت بعض دیگر افراد کے نام سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوچنگ چلانے والوں، ایجنٹوں اور امتحانی عمل سے جڑے افراد کے مبینہ کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان تمام الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگی۔
11ویں اور 13ویں JPSC امتحانات کے انٹرویو میں رقم لینے کا الزام
CID کی پوچھ گچھ میں سامنے آنے والے مبینہ بیان کے مطابق، 11ویں اور 13ویں JPSC امتحانات کے انٹرویو میں کچھ امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے فی امیدوار *15 لاکھ روپے* تک کی رقم طے کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ابھیے تیواری نے مبینہ طور پر بتایا کہ سات امیدواروں کے انٹرویو میں نمبر بڑھانے کے لیے رقم وصول کیے جانے کی بات سامنے آئی۔ بعض امیدواروں کو کوچنگ چلانے والوں اور درمیانی افراد کے ذریعے مبینہ نیٹ ورک سے جوڑے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر فائدہ پہنچائے گئے امیدواروں میں DSP اور ڈپٹی جیلر جیسے عہدوں پر منتخب ہونے والے افراد شامل تھے۔ CID اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا واقعی ان امیدواروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا تھا یا نہیں۔
پریلیمز سے فائنل تک مبینہ طور پر الگ الگ رقم طے
تحقیقات میں سب سے اہم دعووں میں سے ایک امتحان کے مختلف مراحل کے لیے مبینہ طور پر الگ الگ رقم طے کیے جانے سے متعلق ہے۔
ابھیے تیواری کے مبینہ بیان کے مطابق، عام زمرے کے امیدوار کو پریلیمز میں کامیاب کرانے کے لیے *5 لاکھ روپے* تک کی رقم طے ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ SC اور ST زمرے کے امیدواروں کے لیے یہ رقم مبینہ طور پر *2 سے 3 لاکھ روپے* کے درمیان تھی۔
اسی طرح فائنل امتحان میں کامیاب کرانے کے لیے فی امیدوار *60 سے 70 لاکھ روپے* تک کی مبینہ رقم طے کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
CID اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر یہ رقم کون وصول کرتا تھا، رقم کا لین دین کس طرح ہوتا تھا اور کیا اس کا امتحان یا انٹرویو کے نمبروں میں کسی مبینہ تبدیلی سے تعلق تھا۔
امیدواروں کے کوڈ کے ذریعے مبینہ کھیل کا الزام
تحقیقات میں امیدواروں کے کوڈ سے متعلق معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ CID کے مطابق، TDPL کے ڈائریکٹر رام ویر سنگھ نے مبینہ طور پر پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ 11ویں اور 13ویں JPSC مشترکہ سول سروس امتحان اور CDPO امتحان کے انٹرویو کے لیے امیدواروں کے رول نمبر کی بنیاد پر کوڈ تیار کیے جاتے تھے۔
تحقیقات میں اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ کیا ان کوڈز کے ذریعے مخصوص امیدواروں کی شناخت کرکے انہیں انٹرویو میں مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔
CID اس دعوے کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کمیشن سے وابستہ کچھ افراد مبینہ طور پر امیدواروں کے کوڈ کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے امتحان منعقد کرنے والی ایجنسی سے رابطہ کرتے تھے۔
CDPO امتحان میں 10 لاکھ روپے کی مبینہ رقم
CDPO امتحان بھی CID کی تحقیقات کے دائرے میں ہے۔ ابھیے تیواری کے مبینہ بیان کے مطابق، CDPO امتحان میں امیدوار کو کامیاب کرانے کے لیے فی امیدوار *10 لاکھ روپے* تک کی رقم طے ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران بعض امیدواروں سے 10 لاکھ اور 15 لاکھ روپے تک وصول کیے جانے کے الزامات کا بھی ذکر سامنے آیا ہے۔ CID کوچنگ چلانے والوں، درمیانی افراد اور امتحانی عمل سے وابستہ افراد کے مبینہ کردار کی جانچ کر رہی ہے۔
منتخب امیدوار بھی تحقیقات کے دائرے میں
ابھیے تیواری کے مبینہ بیان میں ایسے کئی امیدواروں کے نام بھی سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے جو DSP اور ڈپٹی جیلر جیسے عہدوں پر منتخب ہوئے۔
CID اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا ان امیدواروں کو واقعی انٹرویو میں مبینہ طور پر اضافی نمبر دیے گئے تھے اور کیا ان کے انتخاب میں امتحانی عمل سے باہر کسی شخص نے مداخلت کی تھی۔
مبینہ سنڈیکیٹ کی تحقیقات
پوچھ گچھ سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مبینہ نیٹ ورک میں کمیشن کے سابق عہدیداروں، امتحانی عمل سے وابستہ افراد، کوچنگ چلانے والوں اور درمیانی افراد کے درمیان رابطے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مبینہ بیان کے مطابق، امیدواروں سے امتحان کے مختلف مراحل کے حساب سے رابطہ کیا جاتا تھا اور کامیابی کے لیے الگ الگ رقم طے کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس کے بعد انٹرویو میں نمبر بڑھانے یا انتخاب میں مدد کرنے کی مبینہ کوشش کی جاتی تھی۔
CID اب مبینہ رقم کے لین دین، ملزمان کے درمیان رابطوں، امیدواروں کی تفصیلات، امتحانی کوڈ اور بھرتی کے عمل میں ممکنہ مداخلت کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔
یہ الزامات انتہائی سنگین ہیں، تاہم تفتیش کے دوران سامنے آنے والے دعووں کو ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ کسی بھی شخص کے خلاف جرم ثابت ہونے کا حتمی فیصلہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مجاز عدالت ہی کرے گی۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


