تمل ناڈو میں ارکان اسمبلی کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق وزیر اعلیٰ وجے کی حکومت کی جانب سے ریاست کے تمام 234 ارکان اسمبلی کے لیے ایک خصوصی سہولتی پیکیج پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
بتائی گئی تفصیلات کے مطابق اس پیکیج میں سرکاری گاڑی، ایندھن اور گاڑی کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لیے ماہانہ مالی مدد، سیکریٹری رکھنے کے لیے اضافی رقم اور ہیلتھ انشورنس کوریج میں اضافہ شامل ہے۔
ارکان اسمبلی کو سرکاری گاڑی دینے کا دعویٰ
دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر رکن اسمبلی کو اپنے حلقے میں عوامی مسائل اور ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں سفر کرنے کے لیے سرکاری گاڑی فراہم کی جائے گی۔ گاڑی کے ڈرائیور، ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات کے لیے ہر ماہ 75 ہزار روپے کی مدد دینے کی بات کہی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں زیادہ مؤثر طریقے سے دورہ کر سکیں، عوام سے ملاقات کر سکیں اور ان کے مسائل متعلقہ سرکاری محکموں تک پہنچا سکیں۔
سیکریٹری کے لیے اضافی مالی مدد
رپورٹ کے مطابق ارکان اسمبلی کو سیکریٹری رکھنے کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے کی اضافی سرکاری مدد بھی دی جائے گی۔
ارکان اسمبلی کو روزانہ کی بنیاد پر عوامی شکایات، سرکاری محکموں کے ساتھ رابطہ، درخواستوں اور دیگر انتظامی امور سے نمٹنا پڑتا ہے۔ ایسے میں سیکریٹری یا دفتری عملہ ان کے کام کو منظم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
ہیلتھ انشورنس میں بڑا اضافہ
اس مبینہ پیکیج کا ایک اہم حصہ صحت سے متعلق سہولت بھی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ارکان اسمبلی کا ہیلتھ انشورنس کوریج 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کیا جائے گا۔
اگر یہ فیصلہ باضابطہ طور پر نافذ ہوتا ہے تو ہیلتھ کوریج میں 20 لاکھ روپے کا اضافہ ہوگا۔ تاہم انشورنس کی شرائط، اہلیت، علاج کے دائرہ کار اور دیگر تفصیلات کے لیے سرکاری حکم نامے کی ضرورت ہوگی۔
حکومت کی جانب سے کیا جواز دیا گیا؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق حکومت نے اس طرح کی سہولیات کو ارکان اسمبلی کی عوامی ذمہ داریوں سے جوڑا ہے۔ دلیل یہ بتائی گئی ہے کہ ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں میں مسلسل سفر کرنا پڑتا ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف علاقوں اور سرکاری دفاتر کا دورہ کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی ارکان اسمبلی عام پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور پہلی مرتبہ منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے ہیں۔ ایسے میں بنیادی لاجسٹک اور دفتری سہولیات انہیں بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
اپوزیشن نے اخراجات پر سوال اٹھائے
دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے اس پیکیج کے مالی بوجھ پر سوال اٹھائے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے سے ہونے والے اخراجات کے معاملے میں حکومت کو اپنی ترجیحات واضح رکھنی چاہئیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اگر ہر رکن اسمبلی کو ماہانہ 75 ہزار روپے گاڑی، ایندھن اور دیکھ بھال کے لیے دیے جاتے ہیں تو 234 ارکان کے لیے سالانہ خرچ تقریباً 21.06 کروڑ روپے بنتا ہے۔
اسی طرح اگر ہر رکن اسمبلی کو سیکریٹری کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے دیے جائیں تو 234 ارکان کے لیے سالانہ خرچ تقریباً 7.02 کروڑ روپے ہوگا۔ دونوں مدوں کو ملا کر سالانہ تقریباً 28.08 کروڑ روپے بنتے ہیں۔
اس حساب میں نئی گاڑیوں کی خرید، ڈرائیور کی تنخواہ، گاڑی کا بیمہ اور 25 لاکھ روپے کے ہیلتھ انشورنس کوریج کی ممکنہ لاگت شامل نہیں ہے۔
معاملہ کیوں اہم ہے؟
ارکان اسمبلی عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں اور انہیں اپنے حلقوں میں مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے بنیادی دفتری اور سفری سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم سرکاری خزانے سے ہونے والے اخراجات کے معاملے میں شفافیت اور جواب دہی بھی ضروری ہے۔ اگر یہ پیکیج باضابطہ طور پر نافذ کیا جاتا ہے تو حکومت کو اس کے مکمل مالی اثرات، گاڑیوں کی خریداری، الاؤنس کے استعمال، ہیلتھ انشورنس کی شرائط اور اخراجات کی نگرانی کے طریقہ کار کی وضاحت کرنا ہوگی۔
فی الحال فراہم کردہ معلومات میں بیان کردہ سہولیات اور رقم کی باضابطہ سرکاری تصدیق ضروری ہے۔ اس لیے 234 ارکان اسمبلی کے لیے کار، 75 ہزار روپے ماہانہ مدد اور 25 لاکھ روپے کے ہیلتھ کور کو فی الحال مبینہ یا مجوزہ پیکیج کے طور پر ہی پیش کیا جانا زیادہ مناسب ہوگا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


