کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے مرکز کی جانب سے پیش کیے جانے والے *غیر ملکی فنڈنگ ترمیمی بل 2026 (FCRA Amendment Bill) پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل صرف غیر ملکی فنڈنگ کے قوانین میں تبدیلی نہیں بلکہ حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان تعلقات کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
ششی تھرور کے مطابق اس مجوزہ قانون کے ذریعے انتظامی اختیارات کو مزید مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے، جس سے غیر سرکاری تنظیموں (NGOs)، تحقیقی اداروں، سماجی تنظیموں اور دیگر اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، ماحولیات، انسانی حقوق اور سماجی بہبود کے شعبوں میں کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں بیرونی مالی تعاون سے مختلف منصوبے چلاتی ہیں۔ اگر نئے قوانین بہت زیادہ سخت ہوئے تو ایسی تنظیموں کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
تھرور نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کے نتیجے میں سول سوسائٹی کی آزاد آوازیں متاثر ہو سکتی ہیں اور قانونی طور پر کام کرنے والی کئی تنظیموں کو بھی غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں سول سوسائٹی کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ یہی ادارے عوامی فلاح، سماجی ترقی اور عوامی شرکت کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ بل ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان موجود توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
دوسری جانب مرکزی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کا مقصد غیر ملکی فنڈنگ کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق قومی مفادات کے تحفظ اور مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً قوانین میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔
اس بل کو لے کر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن اسے سول سوسائٹی پر اضافی کنٹرول کی کوشش قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے شفافیت اور بہتر نگرانی کو فروغ ملے گا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


