تازہ خبریں طرز زندگی
سمندر کی گہرائیوں میں بھارت کی طاقت بڑھی، آئی این ایس نپُن بحریہ میں شامل


*مرکزی خبر:*
بھارتی بحریہ کی زیرِ آب اور گہرے سمندر میں کارروائیوں کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی کے نیول ڈاک یارڈ میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈائیونگ سپورٹ ویسل آئی این ایس نپُن کو بھارتی بحریہ میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا۔ یہ جہاز ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ نے تیار کیا ہے اور اس میں تقریباً 75 فیصد مقامی مواد اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔

آئی این ایس نپُن کی شمولیت کے ساتھ مغربی بحریہ کمانڈ کو گہرے سمندر میں غوطہ خوری، ریسکیو اور زیرِ آب مرمت سمیت کئی اہم اور پیچیدہ کارروائیوں کے لیے ایک جدید ڈائیونگ سپورٹ ویسل دستیاب ہوگیا ہے۔ یہ جہاز آئی این ایس نِستار کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جو پہلے ہی مشرقی بحریہ کمانڈ کے تحت اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

تقریباً 8,500 ٹن وزنی آئی این ایس نپُن کو مشکل سمندری حالات میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس جہاز کی ایک اہم خصوصیت 300 میٹر تک کی گہرائی میں سیچوریشن ڈائیونگ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے علاوہ یہ 75 میٹر تک سائیڈ اسٹیج ڈائیونگ آپریشن بھی انجام دے سکتا ہے۔

یہ جہاز آبدوزوں کی ریسکیو کارروائیوں کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر کسی آبدوز کو سمندر کی گہرائی میں ہنگامی صورتحال کا سامنا ہو یا وہ پھنس جائے تو آئی این ایس نپُن اس سے عملے کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے ضروری کارروائیوں میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ اس میں موجود جدید نظام پیچیدہ زیرِ آب مشن کے دوران تکنیکی اور آپریشنل مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

آئی این ایس نپُن کو خراب موسم اور سمندر کی تیز لہروں کے دوران بھی کام کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ اس میں ڈائنامک پوزیشننگ سسٹم موجود ہے، جو زیرِ آب کارروائیوں کے دوران جہاز کی پوزیشن کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاز میں 15 ٹن وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والی سب سی کرین بھی نصب کی گئی ہے۔

جہاز میں ریموٹلی آپریٹڈ وہیکلز یعنی ROV بھی موجود ہیں۔ یہ بغیر پائلٹ کے زیرِ آب گاڑیاں سمندر کی گہرائی میں جا کر معائنہ، تلاش اور تکنیکی کارروائیوں میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔ یہ نظام تقریباً 1,000 میٹر تک کی گہرائی میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ایسے علاقوں میں بھی کارروائی ممکن ہوگی جہاں براہِ راست غوطہ خوروں کو بھیجنا مشکل یا خطرناک ہوسکتا ہے۔

گہرے سمندر میں طویل کارروائیوں کے دوران طبی سہولیات بھی انتہائی ضروری ہوتی ہیں۔ اسی مقصد کے لیے آئی این ایس نپُن میں آٹھ بستروں والا اسپتال، انتہائی نگہداشت کا یونٹ، آپریشن تھیٹر اور ہائپربیرک طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سہولیات گہرے سمندر میں غوطہ خوری کے دوران پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

آئی این ایس نپُن کا کردار صرف ریسکیو اور ڈائیونگ کارروائیوں تک محدود نہیں ہے۔ اگر سمندر کے اندر کسی جہاز، مشین یا اہم سامان میں خرابی پیدا ہوجائے تو یہ جہاز زیرِ آب معائنہ اور مرمت کے کام میں بھی مدد کرسکتا ہے۔ اس صلاحیت سے بھارتی بحریہ کی زیرِ آب دیکھ بھال اور تکنیکی مدد کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔

آئی این ایس نپُن کی شمولیت بھارت کی دفاعی خود انحصاری کے لیے بھی اہم پیش رفت ہے۔ اس جہاز کو ملک میں ہی تیار کیا گیا ہے اور اس میں بڑی مقدار میں مقامی مواد اور ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس طرح یہ جہاز ہندوستان کی بڑھتی ہوئی مقامی دفاعی پیداوار اور جدید بحری ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

وزارت دفاع نے ستمبر 2018 میں ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ کے ساتھ تقریباً 2,393 کروڑ روپے کی لاگت سے دو ڈائیونگ سپورٹ ویسل تیار کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ آئی این ایس نِستار کی بنیاد دسمبر 2019 میں رکھی گئی تھی، جبکہ آئی این ایس نپُن کی بنیاد تقریباً تین ماہ بعد رکھی گئی۔

تعمیر، ساج و سامان کی تنصیب اور سمندری آزمائشوں کے مختلف مراحل مکمل کرنے کے بعد آئی این ایس نپُن کو 30 جولائی کو بھارتی بحریہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ اب 31 اگست کو اسے باضابطہ طور پر بھارتی بحریہ میں کمیشن کیا گیا۔ اس جہاز کی شمولیت سے گہرے سمندر میں غوطہ خوری، آبدوز ریسکیو، زیرِ آب مرمت اور دیگر خصوصی بحری کارروائیوں کے لیے بھارتی بحریہ کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·