تازہ خبریں طرز زندگی
اُجین ناگ چندریشور مندر میں کرنٹ کی افواہ، بھگدڑ جیسی صورتحال


مدھیہ پردیش کے اُجین میں واقع مشہور مہاکال مندر کے احاطے میں پیر کے روز اس وقت افراتفری پھیل گئی جب ناگ چندریشور مندر میں درشن کے لیے قطار میں کھڑے عقیدت مندوں کے درمیان کرنٹ پھیلنے کی افواہ تیزی سے پھیل گئی۔ افواہ کے بعد لوگوں میں خوف پیدا ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اس دوران کئی عقیدت مند گر کر زخمی ہوگئے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مہاکال مندر کی بالائی منزل پر واقع شری ناگ چندریشور مندر میں درشن کے لیے بڑی تعداد میں عقیدت مند قطار میں کھڑے تھے۔ اسی دوران ہر سدھی مندر چوراہے کے قریب بیریکیڈنگ کے اندر بجلی کے ایک ڈسٹری بیوشن پوائنٹ کے نزدیک کرنٹ پھیلنے کی افواہ سامنے آئی۔

افواہ پھیلتے ہی قطار میں موجود لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا۔ کئی افراد خود کو محفوظ جگہ پر لے جانے کے لیے ایک ساتھ آگے بڑھنے لگے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کے اچانک حرکت کرنے سے صورتحال بگڑ گئی اور بھگدڑ جیسی کیفیت پیدا ہوگئی۔

اس دوران کچھ عقیدت مند اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکے اور زمین پر گر گئے۔ متعدد افراد کو چوٹیں آئیں۔ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر عملے نے صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی اور زخمی عقیدت مندوں کو بھیڑ سے باہر نکالا۔

زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے چرک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے نے ان کا علاج شروع کیا۔ زخمی ہونے والوں میں اُجین کے ڈھانچا بھون کی رہائشی ہندو بائی، کشان پورہ کے رہائشی 19 سالہ ساگر ولد منیش، ڈھانچا بھون کی رہائشی لکشمی بائی، گنج باسودہ کی رہائشی انسویا اور ان کی والدہ ممتا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ گاؤں سلواسا کے رہائشی ہری چندر، گجرات کے واپی سے آئے ایک عقیدت مند، گوالیار کی 18 سالہ سونم، بہار کے دربھنگہ کے رہائشی سوجیت کمار، گوالیار کی خوشی اور گجرات کے ولساڈ کی رہائشی تلسی اور ان کی والدہ ریکھا بائی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

واقعے کے بعد مندر احاطے اور آس پاس کے علاقے میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے بھیڑ کو منظم کرنے اور عقیدت مندوں کی آمدورفت کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے، تاکہ افواہ کی وجہ سے دوبارہ کسی قسم کی بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا نہ ہو۔

ناگ چندریشور مندر مہاکال مندر کی بالائی منزل پر واقع ہے اور خاص مذہبی مواقع پر یہاں بڑی تعداد میں عقیدت مند درشن کے لیے پہنچتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی افواہ کے تیزی سے پھیلنے سے لوگوں میں خوف پیدا ہوسکتا ہے اور بڑی بھیڑ کے درمیان اچانک افراتفری خطرناک صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے کی وجہ کرنٹ پھیلنے کی افواہ بنی۔ تاہم اس افواہ میں کتنی حقیقت تھی اور وہاں واقعی بجلی سے متعلق کوئی خرابی ہوئی تھی یا نہیں، اس کی حتمی صورتحال متعلقہ حکام کی جانچ کے بعد ہی واضح ہوگی۔

واقعے کے بعد انتظامیہ کی ترجیح زخمی عقیدت مندوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا اور بھیڑ کو قابو میں رکھنا رہی۔ حکام کی جانب سے مندر میں سکیورٹی اور بھیڑ کو منظم کرنے کے انتظامات کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔

ایسے مذہبی مقامات پر جہاں ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں، افواہوں کو روکنا اور درست معلومات فوری طور پر لوگوں تک پہنچانا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں لوگوں کا گھبرا کر دوڑنا بھگدڑ کا سبب بن سکتا ہے۔

فی الحال صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے۔ زخمی عقیدت مندوں کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے، جبکہ انتظامیہ اور سکیورٹی اہلکار علاقے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

News Image

برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ دہلی آئیں گے، سات سال بعد ہوگا ہندوستان کا دورہ؛ وزیر اعظم مودی سے بھی ملاقات متوقع

  • چین کے صدر شی جن پنگ 12 سے 13 ستمبر تک نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئیں گے۔ یہ سات سال میں ان کا پہلا ہندوستانی دورہ ہوگا۔ اس دوران ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔
BY SHIRIN ·