تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
کاؤویری تنازع پر اسمبلی میں وجے اور ادھیانیدھی آمنے سامنے


تمل ناڈو اسمبلی کے اجلاس میں کاؤویری پانی کی تقسیم اور میکیداتو ڈیم منصوبہ ایک بار پھر اہم سیاسی موضوع بن گیا۔ وزیر اعلیٰ جوزف وجے اور اپوزیشن لیڈر ادھیانیدھی اسٹالن کے درمیان اس معاملے پر طویل اور سخت بحث دیکھنے کو ملی، جس میں دونوں رہنماؤں نے حکومت کی پالیسی، کسانوں کے مفادات اور کرناٹک کے ساتھ تعلقات پر اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔

ادھیانیدھی اسٹالن نے اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ کرناٹک کو میکیداتو ڈیم منصوبے پر آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے حکومت نے اب تک کون سے عملی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنی حکمت عملی واضح کرنے میں ناکام رہی ہے اور عوام کو مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

انہوں نے حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اس اہم معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلانے سے گریز کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کرناٹک کی تمام سیاسی جماعتیں ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہو گئیں، جبکہ تمل ناڈو حکومت ایسا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

جواب میں وزیر اعلیٰ جوزف وجے نے کہا کہ ان کی حکومت کسانوں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ تمل ناڈو کے پانی کے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت پہلے ہی میکیداتو ڈیم منصوبے کے خلاف اسمبلی میں قرارداد منظور کر چکی ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی خط لکھا گیا تھا، جس میں ریاست کے تحفظات اور کسانوں پر ممکنہ اثرات کی تفصیل دی گئی تھی۔

وجے نے اپوزیشن پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کے فیصلوں پر بھی سوال اٹھنے چاہئیں اور صرف موجودہ حکومت کو نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے۔

بحث کے دوران ادھیانیدھی اسٹالن نے وجے کے مجوزہ بنگلورو دورے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے حکومت نے مذاکرات کی بات کی، لیکن مخالفت کے بعد اس سے انکار کر دیا، جس سے حکومت کا مؤقف غیر واضح نظر آیا۔

اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ وجے نے کہا کہ پڑوسی ریاست کے ساتھ بات چیت کرنا کسی بھی جمہوری نظام کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ممالک باہمی مذاکرات سے تنازعات حل کر سکتے ہیں تو ریاستوں کے درمیان مذاکرات میں بھی کوئی برائی نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے موجودہ کشیدہ ماحول کے باعث ان سے بنگلورو کا دورہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی اور بعد میں مناسب وقت پر کاؤویری بیسن کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے مشترکہ دورے کی دعوت بھی دی تھی۔

وزیر اعلیٰ وجے نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر تمل ناڈو کے عوام اور کسانوں کے مفاد کے لیے انہیں ذاتی طور پر تنقید یا بے عزتی بھی برداشت کرنی پڑے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق عوامی مفاد ہر ذاتی وقار سے زیادہ اہم ہے۔

کاؤویری پانی کی تقسیم اور میکیداتو ڈیم کئی دہائیوں سے کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان تنازع کا سبب رہے ہیں۔ اسمبلی میں ہونے والی حالیہ بحث نے ایک بار پھر اس مسئلے کی سیاسی، قانونی اور سماجی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی یہ معاملہ جنوبی ہندوستان کی سیاست کا اہم موضوع بنا رہے گا۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·